اسلام آباد: پاکستان نے اپنی خصوصی اقتصادی حدود میں پاک بحریہ کی مشق سی اسپارک 26 کے دوران ایک بھارتی بحری جہاز کی مبینہ طور پر خطرناک اور اشتعال انگیز نقل و حرکت پر بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاج کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق واقعہ 15 ستمبر کو اس وقت پیش آیا جب پاک بحریہ اپنی دو سالہ مشق سی اسپارک 26 میں مصروف تھی۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی بحری جہاز نے پاکستانی بحری جہاز کے انتہائی قریب جارحانہ انداز میں نقل و حرکت کی، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں کے درمیان رابطہ بھی ہوا۔ پاکستانی حکام نے اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے نئی دہلی سے کہا کہ ایسے واقعات خطے میں غیر ضروری کشیدگی اور غلط اندازوں کے خطرات بڑھا سکتے ہیں۔ یہ پاکستان کا سرکاری مؤقف ہے؛ واقعے کی بھارتی تشریح یا جواب دستیاب ذرائع میں شامل نہیں تھا۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی بین الاقوامی قانون اور پاکستان و بھارت کے درمیان 1991 کے اس دوطرفہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے جو فوجی مشقوں، نقل و حرکت اور دستوں کی پیشگی اطلاع سے متعلق ہے۔ اسلام آباد نے بھارتی فریق پر زور دیا کہ وہ طے شدہ ضابطوں کی پابندی کرے اور سمندر میں ایسے اقدامات سے گریز کرے جو دونوں ملکوں کی بحری افواج کے درمیان تصادم کا باعث بن سکتے ہوں۔

واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دونوں جوہری ہمسایہ ممالک کے درمیان سیاسی اور سکیورٹی تعلقات پہلے ہی حساس ہیں۔ بحری مشقوں کے دوران جہازوں کا قریب آنا عملی سطح پر رابطے اور احتیاط کی اہمیت بڑھا دیتا ہے، تاہم اس مخصوص واقعے سے متعلق ذمہ داری کا تعین کسی آزاد تحقیق کے ذریعے سامنے نہیں آیا۔ دستیاب رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے سفارتی احتجاج اور دفتر خارجہ کی تفصیلات کی تصدیق ہوتی ہے، جبکہ بھارتی حکومت کا تفصیلی مؤقف سامنے آنے پر تصویر مزید واضح ہو سکے گی۔