پنجاب حکومت نے راولپنڈی میں صاف پانی کی کمی سے نمٹنے کے لیے چہان اور خانپور ڈیم سے روزانہ 20 ملین گیلن سے زائد پانی فلٹر کرکے فراہم کرنے کے منصوبے کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے پنجاب کے شہروں کی ترقی سے متعلق مختلف پروگراموں کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس منصوبے پر پیش رفت بیان کی۔

وزیر کے مطابق چہان ڈیم سے روزانہ 12 ملین گیلن صاف پانی فراہم کرنے کی منصوبہ بندی ہے جبکہ خانپور ڈیم 8.6 ملین گیلن پانی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یوں دونوں ذرائع کو ملا کر مجوزہ یومیہ فراہمی 20.6 ملین گیلن بنتی ہے۔ منصوبے میں شمسی توانائی کے استعمال کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ متعلقہ تنصیبات کے لیے توانائی کی ضروریات کا ایک حصہ سولر نظام سے پورا کیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق سولرائزیشن کے دو پیکیجز زیر غور ہیں۔ پہلے پیکیج سے 12 میگاواٹ اور دوسرے سے 7 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا ہدف بیان کیا گیا ہے۔ اجلاس میں پنجاب انٹرمیڈیٹ سٹیز امپروومنٹ انویسٹمنٹ پروگرام، پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام اور پنجاب سٹیز پروگرام سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔

ذیشان رفیق نے بتایا کہ پی آئی سی آئی آئی پی کے تحت 16 شہروں میں مختلف سکیموں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے متعلقہ پروگرام کو نیسپاک کو کنسلٹنٹ مقرر کرنے کی ہدایت بھی دی۔ اجلاس میں زیر زمین پانی کے ٹینکوں کی تعمیر کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان 16 شہروں میں ٹینکوں کی تعمیر اگلے مون سون تک شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔

صوبائی وزیر نے شہری منصوبہ بندی میں مقامی منتخب نمائندوں سے مشاورت کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ہر شہر کی مخصوص ضروریات کو منصوبوں میں شامل کیا جا سکے۔ دستیاب رپورٹ میں راولپنڈی پانی منصوبے کی مکمل لاگت یا حتمی تکمیل کی تاریخ نہیں دی گئی، اس لیے ان پہلوؤں کے بارے میں کسی غیر مصدقہ اندازے کے بجائے سرکاری طور پر جاری ہونے والی آئندہ تفصیلات اہم ہوں گی۔ فی الحال تصدیق شدہ ہدف چہان اور خانپور ڈیم سے مجموعی طور پر 20 ملین گیلن سے زائد یومیہ صاف پانی کی فراہمی اور منصوبے میں سولر توانائی کی شمولیت ہے۔