اسلام آباد: پاکستان اور چین نے سوست خنجراب سرحدی گزرگاہ پر زرعی اور متعلقہ مصنوعات کی تجارت آسان بنانے کے لیے گرین چینل فعال کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ ڈان کے مطابق دونوں ملکوں کی کسٹمز انتظامیہ کے درمیان یہ معاہدہ 29 اکتوبر کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں آن لائن تقریب کے ذریعے طے پایا۔ پاکستانی وفد کی قیادت ممبر کسٹمز آپریشنز سید شکیل شاہ جبکہ چینی وفد کی سربراہی ارومچی کسٹمز کے ڈپٹی ہیڈ اور تاشقرغان کسٹمز کے ڈائریکٹر لی چنگ ہوا نے کی۔

سرکاری اعلان کے مطابق گرین چینل دونوں ملکوں کی جانب سے متفقہ زرعی مصنوعات کی فہرست پر لاگو ہوگا۔ اہل کھیپوں کو ترجیحی پراسیسنگ اور جانچ کی سہولت دی جائے گی، تاہم کسٹمز کا رسک بیسڈ کنٹرول برقرار رہے گا۔ اس بندوبست کا مقصد سرحدی کلیئرنس میں غیر ضروری تاخیر کم کرنا اور خصوصاً جلد خراب ہونے والی زرعی اشیا کی بروقت نقل و حرکت یقینی بنانا ہے۔

معاہدے میں دونوں کسٹمز اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور ممکنہ خطرات سے متعلق الرٹس شیئر کرنے کا نظام بھی شامل ہے۔ اس سے حکام کو ایک طرف تجارت میں تیزی لانے اور دوسری طرف نگرانی و ضابطہ کاری برقرار رکھنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ پاکستانی وفد میں پشاور کسٹمز، گلگت بلتستان کسٹمز، محکمہ تحفظ نباتات، نیشنل ایگرو ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت تجارت اور چین میں پاکستانی سفارت خانے کے نمائندے بھی شریک تھے۔

خنجراب پاس گلگت بلتستان کو چین کے سنکیانگ خطے سے ملاتا ہے اور پاک چین زمینی تجارت کا اہم راستہ ہے۔ ڈان کے مطابق گزشتہ سال پاکستان کسٹمز نے خنجراب کے ذریعے چین سے درآمدات پر 15 ارب روپے ریونیو جمع کیا، جبکہ اسی راستے سے چین اور وسطی ایشیائی ممالک کو 2.8 ارب روپے مالیت کی اشیا برآمد کی گئیں۔

گرین چینل کی عملی کامیابی کا انحصار متفقہ مصنوعات کی فہرست، سرحدی انفراسٹرکچر، معلوماتی نظام اور دونوں جانب کسٹمز و قرنطینہ اداروں کے مؤثر رابطے پر ہوگا۔ معاہدے کے نفاذ سے زرعی برآمد کنندگان کو وقت کی حساس کھیپوں میں سہولت مل سکتی ہے، تاہم تمام اہل تجارت بدستور متعلقہ قانونی، حفاظتی اور کسٹمز تقاضوں کے تابع رہے گی۔