اسلام آباد: پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر دفاع کے فوجی جارحیت سے متعلق حالیہ ریمارکس کی مذمت کرتے ہوئے نئی دہلی سے اشتعال انگیز بیانات ترک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تیار ہے اور کسی بھی حملے کی صورت میں جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ترجمان نے بھارتی وزیر دفاع کے بیان کو خطے کے امن و استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ریمارکس دونوں جوہری ہتھیار رکھنے والے ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھا سکتے ہیں۔ پاکستان نے بھارت پر زور دیا کہ وہ دھمکی آمیز زبان اور فوجی تصادم کی بیان بازی سے گریز کرے اور اختلافات کے حل کے لیے ذمہ دارانہ سفارتی رویہ اختیار کرے۔
دفتر خارجہ کا یہ ردعمل بھارتی وزیر دفاع کے ان ریمارکس کے بعد سامنے آیا جنہیں اسلام آباد نے ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکی سے تعبیر کیا ہے۔ یہ پاکستان کا سرکاری مؤقف ہے؛ بھارتی حکومت اپنے بیانات اور سکیورٹی پالیسی کی الگ تشریح رکھتی ہے۔ اس رپورٹ میں کسی ممکنہ مستقبل کی فوجی کارروائی کو یقینی یا طے شدہ واقعہ قرار نہیں دیا جا رہا، بلکہ دونوں جانب سے سامنے آنے والے سرکاری بیانات کو ان کے متعلقہ تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں سرحدی سلامتی، کشمیر، دہشت گردی کے الزامات اور پانی سمیت متعدد تنازعات طویل عرصے سے کشیدگی کا باعث رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں اعلیٰ سطحی سیاسی یا عسکری بیانات فوری سفارتی ردعمل پیدا کرتے ہیں اور خطے میں خطرات کے اندازوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اسلام آباد نے اپنے تازہ بیان میں زور دیا کہ کسی بھی جارحیت کا جواب دیا جائے گا، تاہم ساتھ ہی نئی دہلی سے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
دفتر خارجہ نے عالمی برادری سے بھی خطے میں کشیدگی بڑھانے والی بیان بازی کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے تنازعات کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ دوسری جانب بھارت ماضی میں اپنی سکیورٹی پالیسی اور پاکستان سے متعلق اقدامات کو قومی سلامتی کے تقاضوں سے جوڑتا رہا ہے۔
موجودہ مرحلے پر سامنے آنے والی معلومات بنیادی طور پر سرکاری بیانات اور سفارتی ردعمل پر مشتمل ہیں۔ کسی نئے فوجی تصادم کی آزادانہ تصدیق اس خبر کا حصہ نہیں ہے۔ اس لیے صورتحال کی اہمیت دونوں ملکوں کے درمیان سخت ہوتی بیان بازی اور اس کے ممکنہ سفارتی و سکیورٹی اثرات میں ہے، نہ کہ کسی غیر مصدقہ عملی کارروائی کے دعوے میں۔

