پشاور کے گنجان آباد دیر کالونی علاقے میں ایک نجی اسکول کی عمارت کی چھت گرنے کے نتیجے میں درجنوں طلبہ اور اساتذہ جان سے گئے اور متعدد افراد زخمی ہوئے، جس کے بعد صوبائی حکام نے واقعے کی تحقیقات اور تعلیمی عمارتوں کے حفاظتی معیار پر سوالات کا جائزہ شروع کردیا ہے۔ بزنس ریکارڈر نے پولیس اور ریسکیو 1122 حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ حادثے کے وقت اسکول کی عمارت میں 110 سے زیادہ بچے موجود تھے اور چھت گرنے کے بعد ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائی کی گئی۔

ابتدائی رپورٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں معمولی فرق سامنے آیا۔ بزنس ریکارڈر نے 35 طلبہ اور دو اساتذہ کی ہلاکت اور 47 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی، جبکہ دیگر بعد کی رپورٹوں میں 34 بچوں اور ایک خاتون استاد سمیت 35 اموات کا ذکر کیا گیا۔ اس اختلاف کے باعث حتمی تعداد متعلقہ حکام کی تصدیق سے مشروط ہے، تاہم تمام معتبر رپورٹیں اس بات پر متفق ہیں کہ حادثے میں بڑی تعداد میں بچے متاثر ہوئے۔

پولیس حکام کے مطابق عمارت کی ساخت اور اس پر موجود بوجھ کو حادثے کی ممکنہ وجوہات میں دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق اسکول کے مالک کو حراست میں لیا گیا اور صوبائی سطح پر تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے حفاظتی آڈٹ کا حکم بھی دیا گیا۔ یہ اقدامات اس مرحلے پر تفتیشی عمل کا حصہ ہیں؛ کسی فرد کی قانونی ذمہ داری کا حتمی تعین عدالت یا مکمل سرکاری تحقیقات کے بعد ہی ہوگا۔

ریسکیو ٹیموں نے تنگ گلیوں اور ملبے کے باوجود کئی گھنٹے تک سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رکھا اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں منتقل کیا۔ متاثرہ خاندانوں اور مقامی آبادی نے حادثے کے بعد جوابدہی اور محفوظ تعلیمی عمارتوں کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

واقعے نے نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے نقشوں، تعمیراتی معیار، گنجائش اور باقاعدہ معائنے کے نظام پر نئی توجہ مرکوز کردی ہے۔ صوبائی حکام کی جانب سے اعلان کردہ تحقیقات اور حفاظتی آڈٹ کے نتائج سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ عمارت میں کن ضابطوں کی پابندی ہوئی، کہاں خامیاں رہیں اور مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنے کے لیے کن انتظامی یا قانونی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔