اسلام آباد: پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر دفاع کی جانب سے پاکستان کے خلاف جارحانہ نوعیت کے ریمارکس کو اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ڈان کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اس قسم کی دھمکی آمیز بیان بازی علاقائی امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہے اور بھارت کو کشیدگی بڑھانے کے بجائے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ترجمان نے اپنے ردعمل میں کہا کہ بھارت کو گزشتہ سال کے تجربے سے مناسب سبق حاصل کرنا چاہیے اور جنگجویانہ طرز عمل اور خطرناک بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔ پاکستان نے اس موقع پر اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا، تاہم ساتھ ہی خطے میں دیرپا امن کے لیے ذمہ دارانہ سفارتی رویے کی ضرورت پر زور دیا۔
دفتر خارجہ کا بیان بھارتی وزیر دفاع کے ان ریمارکس کے جواب میں سامنے آیا جنہیں اسلام آباد نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی دھمکی کے طور پر لیا ہے۔ چونکہ دونوں جوہری ہتھیار رکھنے والے ہمسایہ ممالک کے تعلقات پہلے ہی حساس ہیں، اس لیے اعلیٰ سطح پر فوجی یا جارحانہ بیانات فوری سفارتی ردعمل اور علاقائی تشویش کا باعث بنتے ہیں۔
پاکستانی مؤقف میں یہ فرق واضح رکھا گیا ہے کہ ایک جانب بھارتی وزیر کے بیان کی مذمت کی گئی ہے اور دوسری جانب کسی نئی فوجی کارروائی کے وقوع پذیر ہونے کی اطلاع نہیں دی گئی۔ تازہ پیش رفت بنیادی طور پر سرکاری بیانات اور سفارتی ردعمل سے متعلق ہے۔ اس لیے اسے کسی تصدیق شدہ سرحدی تصادم یا عملی فوجی کارروائی کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں کشمیر، سرحدی سلامتی اور باہمی الزامات طویل عرصے سے بنیادی تنازعات رہے ہیں۔ تازہ بیان بازی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں متعدد دیگر سکیورٹی بحران بھی جاری ہیں۔ دفتر خارجہ نے نئی دہلی سے کہا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافے سے گریز کرے اور ایسے طرز عمل کو ترجیح دے جو خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے امکانات کو بہتر بنا سکے۔

