اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے خطے کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے 16 اکتوبر کو ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کے ریمارکس پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی کے مترادف ہیں اور نئی دہلی کو خطرناک بیان بازی سے گریز کرنا چاہیے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی جانب سے تحمل اور امن کے عزم کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ذمہ دارانہ طرز عمل ضروری ہے اور اشتعال انگیز بیانات کشیدگی بڑھا سکتے ہیں۔
یہ ردعمل بھارتی وزیر دفاع کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت مستقبل میں پاکستان سے منسوب کسی دہشت گرد حملے کی صورت میں زیادہ سخت جواب دے گا۔ پاکستان ماضی میں بھی بھارت کی جانب سے دہشت گردی سے متعلق الزامات کی تردید کرتا رہا ہے اور متنازع دعوؤں کی غیر جانب دار تحقیقات پر زور دیتا رہا ہے۔ اس لیے بھارتی وزیر کے دعوے کو کسی ثابت شدہ نتیجے کے بجائے نئی دہلی کا مؤقف سمجھا جا رہا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے گزشتہ برس دونوں ملکوں کے درمیان فوجی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرے اور ایسی بیان بازی ترک کرے جو دو جوہری ہمسایہ ممالک کے درمیان خطرات بڑھا سکتی ہے۔
اسی بریفنگ میں ترجمان نے وزارت خارجہ کی قونصلر خدمات میں ڈیجیٹل تبدیلی سے متعلق بھی بتایا۔ ان کے مطابق اپوسٹیل خدمات کو ڈیجیٹل اور خودکار بنانے کا عمل جاری ہے جبکہ ای اٹیسٹیشن متعارف کرائی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کارکردگی، شفافیت اور رسائی بہتر بنانا ہے، بالخصوص بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے سہولت پیدا کرنا۔ تاہم بریفنگ کا مرکزی سفارتی نکتہ بھارت کے حالیہ بیان پر پاکستان کا ردعمل اور علاقائی کشیدگی کم رکھنے کی اپیل رہی۔

