لاہور: پاکستان میں نئی فصل کی کپاس کی جننگ فیکٹریوں تک آمد 31 اگست 2026 تک گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 27 فیصد بڑھ کر 16 لاکھ 96 ہزار 451 گانٹھوں تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال اسی تاریخ تک 13 لاکھ 35 ہزار 632 گانٹھیں رپورٹ ہوئی تھیں، جس سے رواں سیزن کے ابتدائی مرحلے میں نمایاں بہتری ظاہر ہوتی ہے۔
صوبائی اعداد کے مطابق سندھ میں کپاس کی آمد 11 لاکھ 39 ہزار 374 گانٹھیں رہی، جو سالانہ بنیاد پر تقریباً 31 فیصد زیادہ ہے۔ پنجاب میں 5 لاکھ 57 ہزار 97 گانٹھیں رپورٹ ہوئیں اور وہاں اضافہ تقریباً 20 فیصد رہا۔ ضلع سانگھڑ 7 لاکھ 57 ہزار 845 گانٹھوں کے ساتھ ملک میں سب سے آگے رہا۔ یہ اعداد جننگ فیکٹریوں تک پہنچنے والی کپاس کی مقدار ظاہر کرتے ہیں اور حتمی قومی پیداوار کے برابر نہیں سمجھے جانے چاہئیں، کیونکہ سیزن ابھی جاری ہے۔
سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان کے حکام نے بہتر پیداوار اور معیار کو موافق موسمی حالات سے جوڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نسبتاً خشک موسم، رات کے کم درجہ حرارت اور سازگار جنوبی ہواؤں نے فی ایکڑ پیداوار بہتر بنانے کے ساتھ کپاس میں نمی اور غیر ضروری مواد کی مقدار کم رکھنے میں مدد دی۔ اس کا فائدہ جننگ اور ٹیکسٹائل صنعت کو بہتر معیار کے خام مال کی صورت میں مل سکتا ہے۔
کاروباری سرگرمی بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں بڑھی ہے۔ مقامی ٹیکسٹائل ملز نے جننگ فیکٹریوں سے تقریباً 9 لاکھ 75 ہزار گانٹھیں خریدیں، جو سالانہ بنیاد پر 34 فیصد زیادہ بتائی گئی ہیں، جبکہ برآمد کنندگان نے 70 ہزار 600 گانٹھیں حاصل کیں۔ کپاس کی بڑھتی آمد سنبھالنے کے لیے ملک بھر میں فعال جننگ فیکٹریوں کی تعداد 332 تک پہنچ گئی۔
ابتدائی بہتری کے باوجود صنعت نے معیار سے متعلق خدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔ کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے بعض جنرز کی جانب سے خالص کپاس میں فضلہ ملانے کے رجحان پر تشویش ظاہر کی اور خبردار کیا کہ اگر اس عمل کو نہ روکا گیا تو لِنٹ کے معیار اور پاکستانی کپاس کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ ایک صنعتی نمائندے کا مؤقف ہے اور مخصوص فیکٹریوں کے خلاف کسی حتمی سرکاری کارروائی یا خلاف ورزی کی عمومی تصدیق نہیں۔
کپاس پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے بنیادی خام مال ہے، اس لیے بہتر مقامی فصل درآمدی ضرورت کم کرنے، زرعی آمدن بڑھانے اور برآمدی صنعت کی لاگت پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ تاہم سیزن کے آخری نتائج موسم، کیڑوں، پانی کی دستیابی، منڈی کی قیمت اور بعد کی چنائیوں پر منحصر ہوں گے۔ موجودہ 27 فیصد اضافہ 31 اگست تک کی آمد کا تقابلی اشارہ ہے، حتمی فصل کا تخمینہ نہیں۔




