اسلام آباد: حکومت نے اینٹی منی لانڈرنگ فریم ورک کے تحت بینکوں کی کرنسی ٹرانزیکشن رپورٹ، یعنی سی ٹی آر، جمع کرانے کی حد 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دی ہے۔ یہ فیصلہ اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام سے متعلق قومی ایگزیکٹو کمیٹی نے منظور کیا۔
نئے انتظام کے تحت جب کسی نقد لین دین کی مالیت 30 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ہوگی تو متعلقہ مالیاتی ادارے کو فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے لیے سی ٹی آر رپورٹنگ کی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔ اس سے پہلے یہ حد 20 لاکھ روپے تھی۔ تبدیلی کا تعلق مخصوص قدر سے زیادہ نقد لین دین کی معمول کی رپورٹنگ سے ہے اور اسے مشتبہ لین دین کی رپورٹ، یعنی ایس ٹی آر، سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔
ایس ٹی آر اس وقت درج کی جاتی ہے جب کسی لین دین یا سرگرمی میں منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت یا دوسری مشتبہ مالی سرگرمی کے اشارے موجود ہوں۔ ایسی رپورٹنگ صرف رقم کی مقررہ حد سے وابستہ نہیں ہوتی۔ اس لیے سی ٹی آر حد بڑھنے کا مطلب یہ نہیں کہ 30 لاکھ روپے سے کم کی مشتبہ سرگرمی رپورٹنگ سے مستثنیٰ ہو گئی ہے۔
قومی ایگزیکٹو کمیٹی ملک کے اے ایم ایل-سی ایف ٹی نظام کی پالیسی سطح کی نگرانی کرتی ہے، جبکہ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ مشتبہ اور مخصوص نقد لین دین سے متعلق مالیاتی معلومات کا تجزیہ کرتا ہے۔ رپورٹنگ حد میں 50 فیصد اضافے سے بینکوں اور دوسرے رپورٹنگ اداروں کے معمول کے ڈیٹا فلو پر اثر پڑے گا اور بڑی نقد ٹرانزیکشنز کی نگرانی کے لیے نیا مقداری معیار استعمال ہوگا۔
تبدیلی ایسے وقت کی گئی ہے جب پاکستان اپنے مالیاتی نگرانی کے نظام، ورچوئل اثاثوں، صوبائی اینٹی کرپشن اداروں اور منی لانڈرنگ سے متعلق قواعد میں مزید اصلاحات پر کام کر رہا ہے۔ حکام کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہوگا کہ رپورٹنگ کے انتظامی بوجھ کو مناسب سطح پر رکھتے ہوئے مشتبہ مالی سرگرمیوں کی بروقت شناخت متاثر نہ ہو۔ نئی 30 لاکھ روپے کی حد صرف کرنسی ٹرانزیکشن رپورٹ کے مقداری ٹرگر سے متعلق ہے؛ مشتبہ سرگرمی کی جانچ اور متعلقہ قانونی ذمہ داریاں بدستور الگ بنیادوں پر نافذ رہیں گی۔

