پاکستان نے جولائی 2026 میں 32 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ریکارڈ کیا۔ اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد پر مبنی رپورٹ کے مطابق جون 2026 میں خسارہ 81 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھا، اس لیے جولائی کا منفی توازن پچھلے مہینے سے 48 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کم رہا۔ مئی میں کرنٹ اکاؤنٹ 50 کروڑ ڈالر سرپلس میں تھا، جس کے بعد جون اور جولائی دونوں مہینوں میں بیرونی حساب دوبارہ خسارے میں چلا گیا۔
کرنٹ اکاؤنٹ کسی ملک کی اشیا اور خدمات کی تجارت، بیرون ملک سے حاصل یا ادا کی جانے والی بنیادی آمدن، اور ترسیلات زر جیسی ثانوی آمدن کا مجموعی توازن ظاہر کرتا ہے۔ خسارہ اس وقت بنتا ہے جب ان مدات میں ملک سے باہر جانے والی رقوم اندر آنے والی رقوم سے زیادہ ہوں۔ یہ عدد حکومت کے بجٹ خسارے یا صرف تجارتی خسارے کے برابر نہیں ہوتا، کیونکہ اس میں خدمات، آمدن اور ترسیلات سمیت کئی اجزا شامل ہوتے ہیں۔
رپورٹ شدہ ماہانہ سلسلے کے مطابق فروری میں 33 کروڑ 20 لاکھ ڈالر اور مارچ میں ایک ارب 18 کروڑ ڈالر سرپلس ریکارڈ ہوا تھا۔ اپریل میں توازن 27 کروڑ 60 لاکھ ڈالر خسارے میں بدلا، مئی میں دوبارہ 50 کروڑ ڈالر سرپلس آیا اور جون میں 81 کروڑ 40 لاکھ ڈالر خسارہ سامنے آیا۔ جون اور جولائی کے دونوں ماہانہ خساروں کو محض حسابی طور پر جمع کیا جائے تو منفی توازن تقریباً ایک ارب 14 کروڑ 20 لاکھ ڈالر بنتا ہے؛ تاہم پاکستان کا مالی سال جولائی سے شروع ہوتا ہے، اس لیے اس جمع کو مالی سال 2026-27 کے دو ماہ کا نتیجہ کہنا درست نہیں ہوگا۔
جولائی میں خسارے کا حجم جون سے کم ہونا ماہانہ سطح پر دباؤ میں کمی دکھاتا ہے، لیکن مسلسل دوسرا منفی مہینہ اس امر کی یاد دہانی بھی ہے کہ درآمدی ادائیگیوں، خدمات اور آمدن کی بیرون ملک منتقلی کو برآمدات اور ترسیلات سے ملنے والی وصولیوں کے مقابل دیکھنا ہوگا۔ کسی ایک مہینے کا عدد موسمی ادائیگیوں، توانائی درآمدات، منافع کی بیرون ملک منتقلی یا بڑے تجارتی لین دین سے متاثر ہوسکتا ہے، اس لیے پائیدار رجحان کے لیے کئی ماہ کے اعداد ضروری ہیں۔
کرنٹ اکاؤنٹ کا رخ زرمبادلہ کی طلب، روپے کی قدر اور بیرونی قرضوں کی ضرورت پر اثر ڈال سکتا ہے۔ بڑا اور مسلسل خسارہ ملکی ذخائر پر دباؤ بڑھا سکتا ہے، جبکہ برآمدات، خدمات اور ترسیلات میں اضافہ اس دباؤ کو محدود کرسکتا ہے۔ تاہم بیرونی شعبے کی مکمل تصویر کے لیے مالی کھاتے، براہ راست سرمایہ کاری، پورٹ فولیو رقوم، سرکاری قرضوں کی آمد و ادائیگی اور زرمبادلہ ذخائر کو بھی ساتھ دیکھنا پڑتا ہے۔
جولائی کے اعداد اس لیے اہم ہیں کہ وہ نئے مالی سال کے آغاز میں بیرونی ادائیگیوں کی سمت واضح کرتے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں تجارتی توازن، کارکنوں کی ترسیلات، خدمات کی ادائیگی اور عالمی توانائی قیمتیں طے کریں گی کہ خسارہ مزید محدود ہوتا ہے یا دوبارہ بڑھتا ہے۔ اردو ہیڈ لائنز ڈیسک نے موجودہ رپورٹ کو جاری شدہ ماہانہ اعداد تک محدود رکھا ہے اور کسی غیر ثابت شدہ وجہ کو خسارے سے منسوب نہیں کیا۔




