ارومچی: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر معیشت کے ہدف کے لیے ڈیجیٹل شعبے کو معاشی تبدیلی کا مرکزی محرک بنانا چاہتا ہے۔ چین کے شہر ارومچی میں 2026 شنگھائی تعاون تنظیم ڈیجیٹل اکانومی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمت عملی روایتی آئی ٹی خدمات کی برآمد سے آگے بڑھ کر مقامی ٹیک مصنوعات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ٹیکنالوجی پر مبنی مینوفیکچرنگ کی تیاری پر مرکوز کی جا رہی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وزیر منصوبہ بندی نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال پاکستان کی آئی ٹی اور آئی سی ٹی برآمدات ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچیں۔ انہوں نے اس پیش رفت کو ’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت برآمدات، پیداواریت، جدت، سرمایہ کاری اور انسانی وسائل سے جوڑے گئے بڑے معاشی اہداف کا حصہ قرار دیا۔

احسن اقبال کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کے صارفین کی تعداد 15 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ گزشتہ دو برس میں ڈیٹا استعمال میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا۔ حکومت فائبر آپٹک کنیکشنز کی تعداد تقریباً 30 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ سے زیادہ کرنے اور اگلے مرحلے میں ایک کروڑ گھرانوں تک تیز رفتار وائرڈ براڈبینڈ پہنچانے کا ہدف رکھتی ہے۔

وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ مستقبل کی حکمت عملی صرف سافٹ ویئر اور خدمات کی برآمد تک محدود نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق حکومت ایسے ماحول کو فروغ دینا چاہتی ہے جہاں پاکستانی کمپنیاں اپنی ملکیتی ٹیکنالوجی مصنوعات تیار کریں، بڑے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بنائیں اور مینوفیکچرنگ میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے زیادہ قدر والی مصنوعات پیدا کریں۔ ان اہداف کے حصول کے لیے انفراسٹرکچر، ہنرمند افرادی قوت اور سرمایہ کاری کو ایک ساتھ بڑھانے کی ضرورت ہوگی۔

انہوں نے خواتین کی ڈیجیٹل رسائی سے متعلق اعدادوشمار بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق خواتین میں موبائل انٹرنیٹ استعمال کی شرح 33 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد ہوئی، جبکہ مرد و خواتین کے درمیان ڈیجیٹل رسائی کا فرق 35 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 8 فیصد رہ گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ خواتین کی زیادہ شمولیت ڈیجیٹل معیشت کے معاشی اثر کو وسیع کرنے کے لیے ضروری ہے۔

ایک ٹریلین ڈالر معیشت کا ہدف طویل مدتی پالیسی ہدف ہے، نہ کہ موجودہ معاشی حجم کی پیش گوئی۔ اس کے حصول کا انحصار سرمایہ کاری، برآمدی نمو، توانائی و کاروباری لاگت، انسانی وسائل اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سمیت متعدد عوامل پر ہوگا۔ فورم میں پیش کردہ اعداد حکومت کی موجودہ سمت اور ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں۔