کراچی: پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں اور فنڈ ٹرانسفرز کے بڑھتے حجم کے ساتھ مالیاتی نظام کو نشانہ بنانے والی سائبر حملوں کی کوششوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 1Link کے چیف ڈیجیٹل اینڈ ٹیکنالوجی سلوشنز افسر عظیم اللہ خان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ادارے کے نظام پر ہر ماہ ہزاروں سائبر حملوں کی کوششیں بلاک کی جاتی ہیں۔
ان کے مطابق مصنوعی ذہانت اور چیٹ بوٹس کے پھیلاؤ نے سائبر سکیورٹی کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز میں اضافے سے صارفین اور اداروں کو سہولت ملی ہے، لیکن اسی کے ساتھ مجرمانہ عناصر بھی مالی فائدے کے لیے آن لائن نظام میں کمزوریاں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اعداد اور مشاہدات 1Link کے عہدیدار کے بیان پر مبنی ہیں۔
عظیم اللہ خان نے بتایا کہ 1Link کا نظام 2026 کے دوران تقریباً 12 ارب ٹرانزیکشنز پراسیس کرنے کی سمت بڑھ رہا ہے، جو اوسطاً 300 سے زیادہ ٹرانزیکشنز فی سیکنڈ بنتی ہیں۔ ان ٹرانزیکشنز کی مجموعی مالیت 90 کھرب روپے سے تجاوز کرسکتی ہے۔ انہوں نے یہ تخمینہ ادارے کے موجودہ پروسیسنگ حجم کے تناظر میں دیا۔
1Link پاکستان کے مالیاتی ادائیگیوں کے بنیادی ڈھانچے میں اہم بیک اینڈ کردار ادا کرتا ہے۔ عہدیدار کے مطابق اس نیٹ ورک کے ذریعے 42 بینک، 22 affiliates، 1,306 سرکاری ادارے، 22 ہزار سے زیادہ اے ٹی ایم اور دیگر چینلز منسلک ہیں۔ اتنے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے سائبر سکیورٹی، فراڈ مانیٹرنگ اور سسٹم کی دستیابی مالیاتی شعبے کے لیے اہم عملی تقاضے بن جاتے ہیں۔
ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھنے سے سائبر حملوں کی ہر کوشش کامیاب نہیں ہوتی۔ ”ہزاروں حملے بلاک“ ہونے کا مطلب ایسے مشتبہ یا نقصان دہ واقعات کی روک تھام ہے جنہیں ادارے کے سکیورٹی نظام نے شناخت کیا۔ رپورٹ میں ان تمام واقعات کو کامیاب breach قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی ہر کوشش کے نتیجے میں مالی نقصان کی اطلاع دی گئی ہے۔
پاکستان میں بینکاری اور سرکاری ادائیگیوں کے ڈیجیٹل ہونے کے ساتھ صارفین کے اکاؤنٹس، شناختی معلومات اور ادائیگی کے نظام کی حفاظت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ 1Link کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ اداروں کو مصنوعی ذہانت سے تقویت پانے والے نئے خطرات کے مقابلے کے لیے سائبر دفاع کو مسلسل اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔
