اسلام آباد: حکومت نے آٹو پالیسی 2026-31 کے مسودے کو اگلے مرحلے میں وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پانچ سالہ مسودے کی منظوری دی ہے، جس کا ہدف گاڑیوں اور پرزہ جات کی برآمدات بڑھانا، مقامی پیداوار اور مسابقت بہتر بنانا اور برقی گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم آفس نے اس بارے میں الگ سرکاری اعلامیہ جاری نہیں کیا، جبکہ حتمی مسودے کی تفصیلات وفاقی حکومتی ذرائع نے فراہم کیں۔
مسودہ پہلے وفاقی کابینہ میں اصولی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا اور اس کے بعد پارلیمان کی منظوری بھی درکار ہوگی۔ اس لیے مجوزہ ٹیکس، ٹیرف اور دیگر اقدامات کو ابھی حتمی نافذ شدہ پالیسی نہیں سمجھا جا سکتا۔ دستیاب مسودے میں مکمل تیار شدہ گاڑیوں اور سی کے ڈی کٹس پر ٹیرف کو 2030-31 تک نمایاں طور پر کم کرکے 15 فیصد تک لانے کی سمت دی گئی ہے۔
برقی گاڑیوں کے لیے 2026 سے 2031 تک ایک فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز ہے، جبکہ رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں پر 6 فیصد اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر 9 فیصد سیلز ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔ 75 ہزار ڈالر سے زیادہ مالیت کی برقی گاڑیوں پر 10 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی تجویز بھی مسودے کا حصہ ہے۔ کم قیمت چھوٹی برقی گاڑیوں کے لیے نسبتاً کم ٹیرف اور گاڑیوں کی فنانسنگ حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے، جبکہ ادائیگی کی مدت تین سے پانچ سال کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
پالیسی میں پانچ برس کے دوران مجموعی برآمدی ہدف تقریباً 6.01 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔ گاڑی ساز اداروں کے لیے لازمی برآمدی اہداف اور زیادہ برآمدات پر مراعات تجویز کی گئی ہیں، جبکہ مسلسل دو سال اہداف پورے نہ کرنے والی کمپنیوں کے مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹس منسوخ کیے جانے کی تجویز بھی موجود ہے۔ مقامی طور پر تیار ہونے والے پرزہ جات کا استعمال بڑھانے کے لیے بھی اہداف مقرر کرنے کی تجویز ہے۔
مسودے میں پانچ برس میں آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی سے 232 ارب روپے سے زیادہ وصولی کا تخمینہ دیا گیا ہے، جسے برآمدی مراعات اور صنعت کی ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن جیسے پروگراموں میں استعمال کرنے کی تجویز ہے۔ معیار اور نگرانی کے لیے پاکستان آٹوموٹیو ٹیسٹنگ انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ دوسری جانب پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز کے چیئرمین عبدالرحمن اعزاز نے کم ٹیرف کی تجویز پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے مقامی پرزہ ساز صنعت پر منفی اثرات کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ یہ صنعت کا مؤقف ہے، جبکہ پالیسی کی حتمی شکل کابینہ اور پارلیمانی عمل کے بعد واضح ہوگی۔

