بینکاک: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان نے نومبر 2026 تک اپنی ضروری توانائی سپلائی حاصل کرلی ہے اور حکومت اب سردیوں کے مہینوں کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے، جب گھریلو توانائی کی طلب عام طور پر بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے یہ بات آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔
وزیر خزانہ کے مطابق عالمی توانائی قیمتوں میں تیز اضافے کے ابتدائی اثرات سے پاکستان اب تک نسبتاً بہتر طور پر نمٹا ہے اور ملک میں ایندھن کی قلت، پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں یا اس سے پیدا ہونے والی امن و امان کی صورتحال سامنے نہیں آئی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات پر حملے پاکستان کے طویل مدتی معاشی منظرنامے کے لیے تشویش بڑھا رہے ہیں، کیونکہ بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی صورت میں عالمی سپلائی معمول پر آنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت انتہائی ضرورت کے بغیر اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کارگو خریدنے کا ارادہ نہیں رکھتی، کیونکہ فوری خریداری والے کارگو پہلے سے طے شدہ معاہدوں کے مقابلے میں زیادہ مہنگے ہوسکتے ہیں۔ یہ پالیسی ایسے وقت اہم ہے جب پاکستان درآمدی توانائی پر انحصار اور بلند عالمی قیمتوں کے باعث بیرونی ادائیگیوں اور مہنگائی دونوں کے دباؤ سے نمٹ رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے مالیاتی اصلاحات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ حکومت مالی استحکام کے راستے پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ حکومت ایسے کاروباری اداروں کے خلاف اقدامات کرنا چاہتی ہے جو صارفین سے سیلز ٹیکس وصول کرنے کے باوجود اسے سرکاری خزانے میں جمع نہیں کراتے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اصلاحات کے عمل کو صنعت، لابنگ گروپس اور مختلف مفادات رکھنے والے حلقوں کی مزاحمت کا سامنا رہتا ہے۔
پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام اور 1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت مصروف ہے۔ رواں ماہ دونوں پروگراموں کے جائزوں پر اسٹاف لیول معاہدہ ہوا، جس کے بعد پاکستان تقریباً 1.2 ارب ڈالر کے وسائل حاصل کرنے کے لیے اہل ہوا ہے، تاہم حتمی اجرا متعلقہ منظوری کے مراحل سے مشروط رہتا ہے۔ وزیر خزانہ کا تازہ بیان فوری توانائی دستیابی کے حوالے سے اطمینان دلاتا ہے، لیکن خلیج میں جاری تنازع اور بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات مستقبل کی قیمتوں، درآمدی بل اور سردیوں کی سپلائی کے لیے اہم غیر یقینی عوامل برقرار ہیں۔
