اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 93 پیسے فی لیٹر کمی کردی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 386 روپے 30 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اس مرحلے پر کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور وہ 396 روپے 96 پیسے فی لیٹر برقرار رہے گی۔ پٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتیں 17 اکتوبر سے 19 اکتوبر 2026 تک نافذ رہیں گی۔
حالیہ نظرثانی ایسے وقت ہوئی ہے جب عالمی توانائی منڈی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں بار بار تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت پٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔ اس لیے عالمی خام تیل کی قیمت، درآمدی لاگت، شرح مبادلہ اور حکومتی محصولات مل کر صارفین کے لیے حتمی نرخ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت اپریل کے اوائل میں 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح تک پہنچی تھی، جبکہ پٹرول بھی اسی عرصے میں 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر تک گیا تھا۔ اس کے بعد قیمتوں میں کمی آئی ہے، تاہم موجودہ نرخ اب بھی سال کے ابتدائی مہینوں کے مقابلے میں بلند ہیں۔ حکومت نے عالمی منڈی میں تیز اتار چڑھاؤ کے باعث جولائی میں ایندھن کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے روزانہ بنیاد پر نظرثانی کی ذمہ داری اوگرا کو دینے کا اعلان کیا تھا۔
ایندھن کی قیمتوں کا اثر صرف نجی گاڑیوں تک محدود نہیں رہتا۔ پٹرول موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، جبکہ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، بجلی پیدا کرنے والے بڑے جنریٹرز اور دیگر تجارتی سرگرمیوں میں اہم ہے۔ اسی وجہ سے ڈیزل کی قیمت برقرار رہنے کے باوجود پٹرول میں کمی براہ راست بعض صارفین کو محدود ریلیف دے سکتی ہے، جبکہ مال برداری اور کاروباری لاگت پر ڈیزل کے بلند نرخ کا دباؤ بدستور موجود رہ سکتا ہے۔
حکومت نے بلند عالمی تیل قیمتوں کے تناظر میں کفایت شعاری اور ایندھن بچت کے اقدامات بھی دوبارہ متعارف کرائے ہیں۔ موجودہ نوٹیفکیشن مختصر مدت کے لیے ہے، اس لیے آئندہ نرخ بین الاقوامی منڈی، علاقائی حالات اور ملکی قیمت تعین کے فارمولے کے مطابق دوبارہ تبدیل ہوسکتے ہیں۔
