کراچی: پاکستان کی سرکاری تیل و گیس تلاش کرنے والی بڑی کمپنی آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے رواں مالی سال اپنی ڈرلنگ سرگرمیوں میں تقریباً 65 فیصد اضافے کا منصوبہ بنایا ہے۔ کمپنی حکام کے مطابق مالی سال 2026-27 میں مجموعی طور پر 33 تلاشی، تشخیصی اور ترقیاتی کنوؤں پر کام کرنے کا ہدف ہے، جس کا مقصد مقامی تیل اور گیس کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایکسپلوریشن خالد امین نے عرب نیوز کو بتایا کہ 33 کنوؤں کا منصوبہ کمپنی کی مختلف exploratory، appraisal اور development سرگرمیوں پر مشتمل ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی اس سال ڈرلنگ پروگرام پر اندازاً 550 ملین ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو گزشتہ سال کم از کم 20 کنوؤں پر خرچ کیے گئے تقریباً 350 ملین ڈالر سے 57 فیصد زیادہ ہے۔
کمپنی نے شیل اور ٹائٹ گیس کے امکانات پر بھی کام جاری رکھا ہوا ہے۔ خالد امین کے مطابق نہیون-1 نامی شیل گیس کنواں 29 ستمبر کو شروع کیا گیا اور اس کی ڈرلنگ جاری ہے، جبکہ اس کی ٹیسٹنگ جنوری 2027 میں متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شیل اور ٹائٹ گیس سے متعلق خصوصی مطالعات بھی جاری ہیں اور ان کی تکمیل کے بعد مزید ٹائٹ گیس کنوؤں کی ڈرلنگ شروع کی جا سکتی ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے چیف ایگزیکٹو احمد حیات لک کے مطابق کمپنی اس وقت یومیہ تقریباً 36 ہزار بیرل تیل اور 800 ملین معیاری مکعب فٹ گیس پاکستان کی توانائی سپلائی میں فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے پیداوار میں بہتری کی توقع ظاہر کی، تاہم فوری اضافے کا کوئی مخصوص عدد نہیں دیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے مالی سال 2031 تک خام تیل کی پیداوار 60 ہزار 384 بیرل یومیہ اور گیس فروخت 1,167 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ تک بڑھانے کے اہداف بھی مقرر کیے ہیں۔
کمپنی اپنے پختہ فیلڈز کی کارکردگی بہتر بنانے، موجودہ پلانٹس کی صلاحیت بڑھانے اور کمپریشن منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں کے پی ڈی اور اُچ فیلڈز کے کمپریشن منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں بتائے گئے ہیں۔ او جی ڈی سی ایل کے مطابق نئی دریافتوں کو تیز رفتار فیلڈ ڈیولپمنٹ کے ذریعے پیداوار سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ منصوبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی توانائی منڈی علاقائی کشیدگی اور بلند قیمتوں سے متاثر ہے اور پاکستان اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ مقامی پیداوار بڑھنے کی صورت میں درآمدی دباؤ میں کمی ممکن ہے، تاہم 33 کنوؤں کی ڈرلنگ کا منصوبہ خود بخود تجارتی دریافت یا پیداوار میں یقینی اضافے کی ضمانت نہیں؛ ہر کنویں کے نتائج، ذخائر کی معاشی افادیت اور ترقیاتی کام کی رفتار حتمی پیداوار کا تعین کریں گے۔

