کراچی: پاکستان نے بین الاقوامی سرمائے تک رسائی بڑھانے اور بیرونی فنانسنگ کے ذرائع متنوع بنانے کے لیے گولڈ بیکڈ فنانسنگ اور مختلف نئے بانڈ آلات کے امکانات پر اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے نمائندوں سے بات چیت کی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق یہ ملاقات بنکاک میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہوئی، جس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد بھی شریک تھے۔
وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق گفتگو میں ممکنہ سکوک، روپے میں جاری مگر ڈالر میں سیٹل ہونے والے بانڈز، مزید پانڈا بانڈز اور بعض ٹوکنائزیشن اقدامات زیر بحث آئے۔ فریقین نے گولڈ بیکڈ لیکویڈیٹی اور توانائی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے مالی خطرہ محدود کرنے کے لیے ہیجنگ کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا، جبکہ سادہ مالی ڈھانچوں اور مسابقتی لاگت کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
گولڈ بیکڈ فنانسنگ عمومی طور پر سونے کے اثاثوں کو ضمانت یا مالی بنیاد کے طور پر استعمال کرتے ہوئے سرمایہ حاصل کرنے کے طریقوں کو کہا جاتا ہے، جبکہ توانائی ہیجنگ کا مقصد تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں اچانک تبدیلی سے پیدا ہونے والے مالی دباؤ کو محدود کرنا ہوتا ہے۔ وزارت خزانہ نے اس مرحلے پر کسی مخصوص گولڈ بیکڈ قرض، بانڈ اجرا یا ہیجنگ معاہدے کی منظوری یا حتمی شرائط کا اعلان نہیں کیا۔
بیان کے مطابق اسٹینڈرڈ چارٹرڈ نے بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے اضافی ڈپازٹ مصنوعات اور روپے میں موجود سکیورٹیز یا نقد اثاثوں کے مقابل فنانسنگ کے امکانات بھی پیش کیے۔ اس کے علاوہ ترجیحی بجلی ترسیل، ریلوے اور سڑک منصوبوں کے لیے کثیرالجہتی ضمانتوں اور ایکسپورٹ کریڈٹ فنانسنگ پر گفتگو ہوئی۔ وزیر خزانہ نے ریفائنری اپ گریڈیشن کے مواقع کا بھی ذکر کیا اور متعلقہ وزارتوں کے ذریعے مزید تجاویز کا خیرمقدم کیا۔
یہ مشاورت ایسے وقت ہو رہی ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت بیرونی مالی استحکام بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور زرمبادلہ میں فنانسنگ تک رسائی بیرونی ادائیگیوں اور ترقیاتی ضروریات کے لیے اہم ہے۔ متبادل بانڈ ڈھانچے اور ضمانتی فنانسنگ حکومت کو سرمایہ کاروں کی مختلف اقسام تک رسائی دے سکتے ہیں، لیکن ان کی لاگت، کرنسی خطرات، ضمانتوں اور قانونی شرائط کا جائزہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق ملاقات میں کسی حتمی مالی وعدے، معاہدے یا اجرا کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے زیر بحث آپشنز کو فی الحال پالیسی اور مارکیٹ سطح کی مشاورت سمجھا جائے گا، نہ کہ منظور شدہ قرض یا بانڈ پروگرام۔ آئندہ کسی بھی عملی پیش رفت کے لیے متعلقہ سرکاری منظوریوں، مالی شرائط اور اجرا کے باضابطہ اعلان کی ضرورت ہوگی۔
