کراچی: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بنکاک میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر متحدہ عرب امارات کے تین بڑے کمرشل بینکوں کے وفود سے سکوک اجرا، سرمایہ کاری کے مواقع اور پاکستان کی قرض گیری کی لاگت کم کرنے کے امکانات پر بات چیت کی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق ملاقاتوں میں شارجہ اسلامک بینک، ابوظبی کمرشل بینک اور عجمان بینک کے نمائندے شریک ہوئے۔
وزارت خزانہ نے بتایا کہ گفتگو میں ممکنہ سکوک، روپے میں جاری مگر ڈالر میں سیٹل ہونے والے مالی آلات، مزید پانڈا بانڈز اور یورو بانڈ کی ممکنہ ٹوکنائزیشن شامل تھی۔ وزیر خزانہ نے پاکستان کے مالیاتی اور بیرونی کھاتے کے اشاریوں، زرمبادلہ ذخائر، کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر پروگرام میں پیش رفت کا ذکر کیا۔
محمد اورنگزیب نے مہنگے قلیل مدتی قرض کو نسبتاً طویل مدت کی فنانسنگ سے بدلنے، ادائیگی کی مدت بڑھانے اور قرض کی بڑی ادائیگیوں کو چند مخصوص ادوار میں مرتکز ہونے سے کم کرنے پر زور دیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق مقصد یہ ہے کہ مجموعی بیرونی قرض میں اضافہ کیے بغیر قرض کے ڈھانچے اور لاگت کو بہتر بنایا جائے۔
فریقین نے عالمی بینک گروپ کے ادارے ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی، میگا، کی ضمانت سے ممکنہ فنانسنگ اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی فنڈنگ لاگت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق بینک وفود نے ممکنہ سکوک اجرا میں شرکت کے لیے حمایت اور آمادگی ظاہر کی۔ تاہم کسی مخصوص سکوک کی مالیت، شرح، مدت یا اجرا کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ملاقاتوں میں پاکستان میں ریفائنری اپ گریڈیشن، بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ سے متعلق سرمایہ کاری کے مواقع بھی زیر بحث آئے۔ اس کے ساتھ مالیاتی اداروں کے ذریعے کیپٹل مارکیٹ بینچ مارکس بنانے اور کاروبار، چھوٹے و درمیانے اداروں اور زرعی شعبے کے لیے قرض کی دستیابی بڑھانے پر بھی گفتگو ہوئی۔
پاکستان رواں سال بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں یورو بانڈ اور پانڈا بانڈ کے ذریعے دوبارہ سرگرم ہوا ہے اور حکومت متبادل اسلامی اور علاقائی مالیاتی ذرائع بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تازہ ملاقاتیں اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں، مگر فی الحال یہ مذاکراتی مرحلے میں ہیں۔ کسی بھی عملی قرض، سکوک یا سرمایہ کاری معاہدے کی حتمی حیثیت اس وقت واضح ہوگی جب حکومت اور متعلقہ مالیاتی ادارے باضابطہ شرائط، منظوری اور اجرا کا اعلان کریں گے۔

