اسلام آباد: پاکستان نے معدنی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے، بالخصوص امریکی کمپنیوں کو بلوچستان کے معدنی وسائل کی طرف راغب کرنے کے لیے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 کو 12 اور 13 نومبر کو منعقد کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق فورم پہلے اپریل میں ہونا تھا لیکن اسے بعد میں ملتوی کر دیا گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ امریکی سرمایہ کار بلوچستان کے معدنی منصوبوں میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔ اس وقت کسی امریکی کمپنی کے بلوچستان میں براہ راست آپریشن کی اطلاع نہیں، تاہم پاکستان اور امریکی اداروں کے درمیان اہم معدنیات، پراسیسنگ اور لاجسٹکس سے متعلق تعاون کے فریم ورک پہلے سے زیرِ عمل ہیں۔ ستمبر 2025 میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن اور امریکی کمپنی یو ایس اسٹریٹجک میٹلز کے درمیان اہم معدنیات اور لاجسٹکس سے متعلق مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک نے دسمبر 2025 میں 1.25 ارب ڈالر کی معاونت کی منظوری دی تھی، جس کے بارے میں امریکی سفارت خانے نے کہا تھا کہ اس سے امریکی کان کنی کے آلات اور خدمات کی برآمدات میں دو ارب ڈالر تک کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس تعاون کا تعلق ریکوڈک سمیت پاکستان کے معدنی شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی بڑھتی دلچسپی سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

ریکوڈک منصوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے اور اسے دنیا کے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبے اور سونے کے ذخائر میں شمار کیا جاتا ہے۔ منصوبے میں بیرک مائننگ کا 50 فیصد، بلوچستان حکومت کا 25 فیصد اور وفاقی سرکاری اداروں کا مجموعی طور پر 25 فیصد حصہ ہے۔ تازہ فزیبلٹی کے مطابق منصوبے کی مجموعی سرمایہ کاری 8.83 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے اور پیداوار 2028 کے آخر میں شروع ہونے کی توقع ہے۔

پاکستان کے معدنی ذخائر کے حجم کے بارے میں مختلف تخمینے موجود ہیں، جبکہ رپورٹ نے انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس کا تقریباً آٹھ ٹریلین ڈالر کا اندازہ نقل کیا ہے۔ تاہم ذخائر کی تخمینی مالیت اور حقیقی قابلِ تجارت پیداوار میں واضح فرق ہوتا ہے۔ بڑے پیمانے پر برآمدات کے لیے سکیورٹی، بنیادی ڈھانچے، قابل اعتماد ارضیاتی ڈیٹا، سرمایہ، جدید ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تحفظ اور مستقل ریگولیٹری نظام ضروری ہوں گے۔ نومبر کا فورم اسی سرمایہ کاری ماحولیاتی نظام کو وسعت دینے کی حکومتی کوشش کا حصہ ہے۔