اسلام آباد: پاکستان تقریباً 1.5 ارب ڈالر کی ایسی فنانسنگ کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے جسے عالمی بینک گروپ کی ضمانتوں کی پشت پناہی حاصل ہو۔ وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بنکاک میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر عالمی مشاورتی فرم Alvarez & Marsal کے نمائندوں سے اس تجویز پر گفتگو کی۔

تجویز میں عالمی بینک کی پالیسی بیسڈ گارنٹی کو ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی، میگا، کی کوریج کے ساتھ جوڑنے کا امکان شامل ہے تاکہ پاکستان بین الاقوامی قرض دہندگان سے زیادہ مسابقتی شرحوں اور ممکنہ طور پر طویل مدت کے لیے فنانسنگ حاصل کر سکے۔ وزارت خزانہ نے ممکنہ ہدف تقریباً 1.5 ارب ڈالر بتایا، تاہم واضح کیا کہ اصل رقم دستیاب گارنٹی گنجائش اور حتمی ٹرانزیکشن ڈھانچے پر منحصر ہوگی۔

عالمی بینک کی ضمانتیں قرض دہندگان کے بعض خطرات کم کر کے ممالک کو کمرشل مارکیٹ سے نسبتاً بہتر شرائط پر سرمایہ حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ میگا عالمی بینک گروپ کا ادارہ ہے جو سیاسی اور بعض دیگر سرمایہ کاری و فنانسنگ خطرات کے خلاف ضمانتی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ دونوں آلات کو یکجا کرنے کا مقصد نجی سرمایہ کو متحرک کرنا اور پاکستان کے لیے قرض کی لاگت یا مدت بہتر بنانا ہو سکتا ہے۔

وزیر خزانہ نے موجودہ عالمی بینک ڈیولپمنٹ پالیسی آپریشن کو استعمال کرنے پر زور دیا تاکہ نئی پالیسی فریم ورک پر طویل مذاکرات سے بچا جا سکے۔ وزارت خزانہ کے مطابق تجویز کا مزید جائزہ فنانس ڈویژن، اقتصادی امور ڈویژن اور عالمی بینک گروپ کے ساتھ کیا جائے گا۔ ملاقات میں موجود عالمی بینک وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے، بجٹ سپورٹ کو ضمانتوں سے جوڑنے اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھانے کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔

اسی سلسلے میں وزیر خزانہ نے ڈوئچے بینک کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی، جہاں بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور ہوائی اڈوں کی نجکاری یا آؤٹ سورسنگ سے متعلق مشاورتی کردار اور ممکنہ سرمایہ کاری پر بات ہوئی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مہنگے اور قلیل مدتی قرض پر انحصار کم کر کے بیرونی قرض کے ڈھانچے کو زیادہ پائیدار بنانا چاہتی ہے۔

وزارت خزانہ نے ابھی کسی قرض دہندہ، شرح سود، مدت، ضمانتی فیس یا ٹرانزیکشن کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ اس لیے 1.5 ارب ڈالر کو منظور شدہ قرض نہیں بلکہ زیر غور فنانسنگ ہدف سمجھا جائے گا۔ عملی پیش رفت کا انحصار عالمی بینک اور میگا کی ضمانتی گنجائش، قانونی و مالی شرائط اور حکومت کی حتمی منظوری پر ہوگا۔