اسلام آباد: پاکستان میں قلیل مدتی مہنگائی 15 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں سالانہ بنیاد پر 11.38 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) میں 0.04 فیصد کی معمولی کمی ہوئی۔ پاکستان بیورو شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق زیر نگرانی 51 بنیادی اشیا میں سے 23 کی قیمتیں بڑھیں، سات کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور 21 اشیا کی قیمتیں گزشتہ ہفتے کی سطح پر برقرار رہیں۔

ہفتہ وار بنیاد پر نمایاں اضافے والی اشیا میں چنے کی دال 4.97 فیصد، گندم کا آٹا 3.36 فیصد اور مرغی 3.31 فیصد مہنگی ہوئی۔ انڈوں، ماش اور مسور کی دال، لکڑی، کپڑے، پکی دال، ڈیزل، ایل پی جی اور تیار چائے کی قیمتوں میں بھی مختلف شرح سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے برعکس ٹماٹر 23.05 فیصد، پیاز 4.90 فیصد اور کیلے 2.59 فیصد سستے ہوئے، جبکہ پٹرول، ٹوٹا باسمتی چاول، چینی اور گڑ کی قیمتوں میں بھی ہفتہ وار کمی دیکھی گئی۔

سالانہ موازنے میں بعض ضروری اشیا اور توانائی کی قیمتوں میں کہیں زیادہ اضافہ سامنے آیا۔ اعداد و شمار کے مطابق پیاز 75.19 فیصد، ایل پی جی 68.95 فیصد، پہلی سہ ماہی کی بجلی 58.59 فیصد، پٹرول 49.60 فیصد، ڈیزل 43.98 فیصد اور گندم کا آٹا 35.13 فیصد مہنگا تھا۔ مرغی، مرچ پاؤڈر، مٹن، بیف، سادہ روٹی اور تیار چائے کی قیمتیں بھی ایک سال پہلے کے مقابلے میں بلند رہیں۔ دوسری جانب ٹماٹر، آلو، چینی، انڈے اور بعض دالوں سمیت کئی اشیا سالانہ بنیاد پر سستی رپورٹ ہوئیں۔

ایس پی آئی ملک میں منتخب ضروری اشیا کی قیمتوں میں قلیل مدتی تبدیلی کی پیمائش کرتا ہے اور گھریلو بجٹ پر فوری دباؤ کا ایک اہم اشاریہ سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مجموعی ہفتہ وار اشاریے میں معمولی کمی کے باوجود سالانہ مہنگائی بدستور دو ہندسوں میں ہے اور خوراک و توانائی کے کئی اہم اجزا صارفین کے اخراجات پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ مختلف اشیا کی قیمتوں میں بیک وقت اضافے اور کمی سے یہ بھی واضح ہے کہ مہنگائی کا اثر تمام مصنوعات میں یکساں نہیں، اس لیے مجموعی شرح کے ساتھ انفرادی ضروری اشیا کی نقل و حرکت بھی گھریلو قوت خرید کے جائزے میں اہم ہے۔