پاکستان کی بڑی صنعتوں کی پیداوار میں اگست 2026 کے دوران سالانہ بنیاد پر صرف 0.67 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، جس سے صنعتی بحالی کی رفتار میں کمزوری کے آثار سامنے آئے ہیں۔ ڈان نے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ اگست میں کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ 113.19 رہا، جو گزشتہ سال اسی مہینے میں 112.45 تھا۔

ماہانہ بنیاد پر تصویر زیادہ کمزور رہی اور جولائی کے مقابلے میں اگست کی صنعتی پیداوار 4.96 فیصد گھٹ گئی۔ مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ، جولائی اور اگست، میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی مجموعی نمو سالانہ بنیاد پر 1.85 فیصد رہی۔ جولائی میں پیداوار 3.03 فیصد بڑھی تھی، جبکہ اس سے قبل جون میں 3.48 فیصد سکڑاؤ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

گزشتہ مکمل مالی سال 2025-26 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار 4.98 فیصد بڑھی تھی، لیکن نئے مالی سال کے ابتدائی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف صنعتی شعبوں میں رفتار یکساں نہیں۔ جولائی اور اگست کے دوران تمباکو، ملبوسات، پیٹرولیم مصنوعات، سیمنٹ، برقی آلات، گاڑیوں، دیگر ٹرانسپورٹ آلات اور فرنیچر نے مجموعی نمو میں مثبت حصہ ڈالا۔

اس کے برعکس خوراک، مشروبات، ٹیکسٹائل، کیمیکل، ادویات، لوہا و اسٹیل اور مشینری کے بعض حصوں نے مجموعی شرح کو نیچے کھینچا۔ ٹیکسٹائل کی کمزوری خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ پاکستان کی صنعتی پیداوار اور برآمدات دونوں میں نمایاں وزن رکھتا ہے۔ پہلے دو ماہ میں مجموعی ٹیکسٹائل پیداوار تقریباً 2.98 فیصد کم ہوئی، اگرچہ گارمنٹس سے متعلق سرگرمی میں بہتری کے اشارے موجود رہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار میں 15.48 فیصد اور آٹوموبائل شعبے میں 32.45 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا، جبکہ فارماسیوٹیکل پیداوار 14.57 فیصد، کھاد 7.55 فیصد اور لوہا و اسٹیل 11.48 فیصد کم ہوئے۔ یہ فرق بتاتا ہے کہ صنعتی بحالی چند شعبوں میں زیادہ مرتکز ہے۔

اعداد و شمار کسی ایک مہینے کی بنیاد پر پورے مالی سال کا نتیجہ طے نہیں کرتے، تاہم اگست کی معمولی سالانہ نمو اور نمایاں ماہانہ کمی پالیسی سازوں کے لیے صنعتی طلب، پیداواری لاگت اور برآمدی شعبوں کی رفتار پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ظاہر کرتی ہے۔