پاکستان اور ملائیشیا نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو وسعت دینے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے، جس میں ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، زراعت، فوڈ پروسیسنگ اور حلال مصنوعات سمیت متعدد شعبوں کو تعاون کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ ڈان کے مطابق یہ پیش رفت اسلام آباد میں ’ملائیشیا پاکستان بزنس انگیجمنٹ 2026‘ کے دوران سامنے آئی۔

ملائیشیا کے ہائی کمشنر داتو محمد اظہر مزلان نے کانفرنس میں کہا کہ نجی شعبے کی زیادہ شرکت اور تجارتی روابط میں اضافے کے ذریعے دونوں ممالک کی تجارت کو موجودہ تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر سے پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔ یہ پانچ ارب ڈالر کوئی طے شدہ یا مکمل شدہ تجارتی حجم نہیں بلکہ سفارتی سطح پر بیان کیا گیا ممکنہ ہدف ہے۔

ہائی کمشنر نے مصنوعی ذہانت، تعلیم، مینوفیکچرنگ اور خدمات کو ممکنہ تعاون کے شعبے قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع، وسطی ایشیا تک رسائی اور نوجوان آبادی کو تجارتی صلاحیت کے اہم عناصر کے طور پر پیش کیا۔ خوردنی تیل اور حلال مصنوعات کے شعبوں میں بھی پاکستانی کاروباری اداروں کو ملائیشین مارکیٹ میں مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دی گئی۔

وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قاصر احمد شیخ نے کہا کہ دونوں ممالک مشترکہ منصوبوں اور علاقائی و عالمی منڈیوں میں اپنی موجودگی بڑھانے کی قابلِ ذکر صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، ویلیو ایڈڈ صنعتوں، کان کنی و معدنیات، زراعت، فوڈ پروسیسنگ اور حلال مصنوعات کو ممکنہ مشترکہ سرمایہ کاری کے شعبوں میں شمار کیا۔

وزیر کے مطابق ملائیشیا کی تکنیکی مہارت پاکستان کے قدرتی وسائل، افرادی قوت اور بڑی صارف منڈی کے ساتھ مل کر صنعتی ترقی کے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ پاکستان نے ایسی معیاری ملائیشین سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرنے کا عندیہ دیا جو ٹیکنالوجی کی منتقلی، روزگار اور برآمدات میں اضافے کا سبب بنے۔

کانفرنس میں بیان کیے گئے اہداف کے باوجود رپورٹ میں کسی نئے بڑے سرمایہ کاری معاہدے کی حتمی مالیت یا پانچ ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کے حصول کے لیے مقررہ تاریخ نہیں دی گئی۔ اس لیے روڈ میپ کی عملی کامیابی کا انحصار آئندہ کاروباری معاہدوں، مشترکہ منصوبوں اور نجی شعبے کی شرکت پر ہوگا۔