اسلام آباد: وفاقی حکومت متحدہ عرب امارات کی اتصالات، جو اب ای اینڈ کے نام سے جانی جاتی ہے، سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کی نجکاری کے تقریباً 80 کروڑ ڈالر کے بقایاجات وصول کرنے کے لیے بین الاقوامی ثالثی کا راستہ اختیار کرنے پر غور کر رہی ہے۔ معاملہ سینیٹ کی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نجکاری کی قائمہ کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس میں زیر بحث آیا۔
ارکان کو بتایا گیا کہ وفاقی کابینہ کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے اٹارنی جنرل آف پاکستان کے دفتر کو قواعدِ کار 1973 کے رول 24 کے تحت معاملہ جلد آگے بڑھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکومت کے سامنے زیر غور تجویز میں اصل واجب الادا رقم کے ساتھ 2008 سے اس رقم کی موقع لاگت اور قابل اطلاق ہرجانے کی وصولی بھی شامل ہے۔
پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول کی فروخت کے معاہدے کے تحت مجموعی رقم میں سے تقریباً 1.76 ارب ڈالر وصول کیے گئے تھے جبکہ تقریباً 80 کروڑ ڈالر اب تک ادا نہیں ہوئے۔ سرکاری بریفنگ کے مطابق ادائیگی پی ٹی سی ایل کی جائیدادوں کی نئے انتظام کو منتقلی سے منسلک تھی۔ مجموعی 3,246 جائیدادوں میں سے تقریباً 99 فیصد منتقل کی جا چکی ہیں جبکہ 32 جائیدادیں اب بھی منتقل نہیں ہو سکیں۔
اتصالات نے انہی غیر منتقل شدہ جائیدادوں کی بنیاد پر بقایا رقم روک رکھی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ 2015 سے اس تنازع کو مذاکرات اور مختلف کمیٹیوں کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن حتمی تصفیہ نہیں ہو سکا۔ جولائی 2026 میں وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی بنائی گئی جس میں آئی ٹی، قانون اور اٹارنی جنرل کے دفتر کے نمائندے شامل تھے۔
کمیٹی نے دو دہائیوں پر محیط تنازع کے پیش نظر سفارش کی کہ فروخت کے معاہدے میں موجود شق کے تحت بین الاقوامی ثالثی کے امکان کا جائزہ لیا جائے۔ ساتھ ہی اٹارنی جنرل سے کہا گیا کہ پاکستان کے مقدمے کی قانونی مضبوطی، کامیابی کے امکانات اور ممکنہ قانونی نتائج کا جائزہ لیں۔ اگر قانونی میرٹ ثالثی کی حمایت کرے تو اتصالات کو نوٹس آف انٹینٹ جاری کرنے سے پہلے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی منظوری درکار ہوگی۔
یہ پیش رفت ابھی کسی باضابطہ ثالثی کیس کے آغاز یا پاکستان کے حق میں فیصلے کے مترادف نہیں۔ فی الحال حکومت قانونی آپشنز اور مقدمے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ حتمی فیصلہ منظوری کے متعلقہ مراحل اور اٹارنی جنرل کی قانونی رائے کے بعد سامنے آئے گا۔
