اسلام آباد: خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کی معاونت سے کراچی انڈسٹریل پارک کو وفاقی اسپیشل اکنامک زون کی حیثیت سے منظوری دے دی گئی ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ پیش رفت ملک میں صنعتی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے جاری اصلاحاتی اقدامات کا حصہ ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر اور SIFC کے حکام نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے وفد سے ملاقات کی، جس میں کاروبار کرنے میں آسانی، ڈیجیٹل تبدیلی اور سندھ کی صنعتی و ترقیاتی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سرکاری معلومات کے مطابق کراچی انڈسٹریل پارک کو وفاقی خصوصی اقتصادی زون کا درجہ ملنے کے بعد منصوبے میں بندرگاہ تک رسائی، مکمل بنیادی سہولتیں اور برآمدی صنعتوں کے لیے خصوصی مراعات فراہم کرنے کا تصور شامل ہے۔ کراچی کی بندرگاہوں کے قریب صنعتی سرگرمیوں کی موجودگی برآمدی کاروبار کے لیے نقل و حمل اور لاجسٹکس کے حوالے سے اہم سمجھی جاتی ہے۔

خصوصی اقتصادی زون کا مقصد عموماً صنعتی سرمایہ کاری کے لیے ایسا مخصوص ماحول فراہم کرنا ہوتا ہے جہاں بنیادی ڈھانچے، انتظامی سہولت اور پالیسی مراعات کے ذریعے نئی صنعتوں اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ موجودہ اعلان میں کراچی انڈسٹریل پارک کو اسی وفاقی فریم ورک کے تحت آگے بڑھانے کی منظوری کی تصدیق کی گئی ہے۔

یہ پیش رفت سندھ حکومت کے اس فیصلے کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے جس میں کراچی انڈسٹریل پارک کے لیے ملیر کے دیہہ بکران اور پپری میں پاکستان اسٹیل ملز سے منسلک 1,275 ایکڑ سرکاری زمین کی پروسیسنگ کی منظوری دی گئی۔ صوبائی کابینہ نے صنعتی پارک کے لیے زمین کو حکومتی سطح کے انتظام کے تحت استعمال کرنے کی سمت میں اقدامات کی منظوری دی تھی۔

تاہم SIFC کے تازہ اعلان میں منصوبے کی تعمیر شروع ہونے کی حتمی تاریخ، سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت، کمپنیوں کی حتمی فہرست یا تمام مراعات کی تفصیلی قانونی شرائط نہیں بتائی گئیں۔ اس لیے موجودہ مرحلے میں قابل تصدیق پیش رفت وفاقی اسپیشل اکنامک زون کی حیثیت کی منظوری اور منصوبے کے بنیادی صنعتی و برآمدی مقاصد تک محدود ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ کاروباری آسانیوں اور ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاروں کے لیے ماحول بہتر بنانے کی کوشش جاری رہے گی۔ کراچی انڈسٹریل پارک کی منظوری اسی وسیع پالیسی کے تحت صنعتی پیداوار اور برآمدی سرگرمیوں کو بڑھانے کی ایک کوشش کے طور پر سامنے آئی ہے۔