کراچی: سندھ کابینہ نے سرکاری ذخائر سے گندم کی اجرا قیمت میں 500 روپے فی 40 کلو کمی کرتے ہوئے نئی قیمت 4,500 روپے مقرر کردی ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق فیصلہ مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد کیا گیا اور فلور ملز کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس کمی کا فائدہ آٹے کی قیمتوں میں صارفین تک منتقل کیا جائے۔

کابینہ اجلاس کے بعد سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے صحافیوں کو بتایا کہ نئی قیمت سے آٹے کے نرخ میں تقریباً 15 روپے فی کلو کمی متوقع ہے۔ ان کے مطابق سندھ کی مقرر کردہ قیمت کو دیگر صوبوں کے نرخوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم صارفین کو حقیقی ریلیف کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فلور ملز اور خوردہ مارکیٹ میں نئی سرکاری قیمت کس رفتار اور کس حد تک منتقل ہوتی ہے۔

گندم اور آٹے کی قیمتیں صوبے میں خوراک کے اخراجات کا اہم حصہ ہیں، اس لیے سرکاری اجرا قیمت میں تبدیلی کا براہ راست تعلق آٹے کی دستیابی اور بازار کے نرخوں سے بنتا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ فلور ملز کو سستی سرکاری گندم دینے کا مقصد صرف صنعت کو فائدہ پہنچانا نہیں بلکہ عوام کے لیے آٹے کی قیمت کم کرنا ہے۔ متعلقہ محکموں کے لیے اب قیمتوں کی نگرانی اور فیصلے پر عمل درآمد اہم مرحلہ ہوگا۔

اسی کابینہ اجلاس میں 2026-27 کے لیے گنے کی کرشنگ سیزن کے آغاز کی تاریخ 15 نومبر مقرر کرنے کی منظوری بھی دی گئی، جبکہ محکمہ زراعت، سپلائی اور پرائسز کو گنے کی امدادی قیمت حتمی کرنے سے پہلے متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی ہدایت کی گئی۔ اس فیصلے کا مقصد شوگر ملز، کاشتکاروں اور مارکیٹ کے درمیان سیزن کے آغاز سے پہلے قواعد واضح کرنا ہے۔

کابینہ نے کراچی میں صنعتی سرگرمی بڑھانے کے لیے ضلع ملیر کے دیہہ بکران اور پپری میں 1,275 ایکڑ سرکاری زمین کراچی انڈسٹریل پارک کے لیے پراسیس کرنے کی بھی منظوری دی۔ سرکاری بیان کے مطابق منصوبہ حکومت سے حکومت کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا اور پاکستان اسٹیل ملز سے وابستہ زمین استعمال ہوگی، جبکہ اسٹیل مل کے اصل پلانٹ کے لیے مختص 700 ایکڑ زمین برقرار رہے گی۔

گندم کی نئی اجرا قیمت فوری طور پر صوبائی خوراک پالیسی کا سب سے نمایاں فیصلہ ہے۔ اس کے اثرات کا اصل پیمانہ آنے والے دنوں میں آٹے کی تھوک اور پرچون قیمتوں میں تبدیلی ہوگا۔ اگر 500 روپے فی 40 کلو کمی مکمل طور پر منتقل ہوتی ہے تو حکومت کے اندازے کے مطابق عام صارف کو فی کلو آٹے پر نمایاں ریلیف مل سکتا ہے، تاہم اس کی تصدیق مارکیٹ کے عملی نرخوں سے ہوگی۔