کراچی: سندھ کابینہ نے سرکاری ذخائر سے گندم کے اجرا کی قیمت میں 500 روپے فی 40 کلو کمی کی منظوری دے دی ہے۔ نئی قیمت 5,000 روپے سے کم ہوکر 4,500 روپے فی 40 کلو مقرر کی گئی ہے۔ فیصلہ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔
سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے اجلاس کے بعد بتایا کہ مارکیٹ میں گندم کی قیمت کم ہونے کے بعد حکومت نے سرکاری ریلیز ریٹ میں بھی کمی کی اور فلور ملز کو ہدایت دی گئی ہے کہ اس کا فائدہ صارفین تک پہنچایا جائے۔ ڈان کے مطابق صوبائی حکومت کا اندازہ ہے کہ اس فیصلے سے آٹے کی قیمت تقریباً 15 روپے فی کلو کم ہونی چاہیے، جبکہ ایکسپریس ٹریبیون نے ابتدائی مارکیٹ ردعمل میں تقریباً 17 روپے فی کلو کمی کی اطلاع دی۔ یہ مارکیٹ قیمتیں مقام اور وقت کے لحاظ سے مختلف ہوسکتی ہیں۔
کابینہ نے 2026-27 کے گنے کے کرشنگ سیزن کے آغاز کے لیے 15 نومبر کی تاریخ بھی مقرر کی۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کے بیان کے مطابق محکمہ زراعت، سپلائی اور قیمتوں کو گنے کی امدادی قیمت حتمی کرنے سے پہلے متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی ہدایت کی گئی ہے۔
اجلاس میں جامشورو ضلع میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور دیہی ترقی کی پانچ اسکیموں کے لیے 502.409 ملین روپے کے اضافی فنڈز کی بھی منظوری دی گئی۔ ان منصوبوں میں سیہون کے لیے پانی کی فراہمی اور متعلقہ سہولیات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومت نے دیوالی کے موقع پر ہندو برادری کے لیے پیر کو عام تعطیل کا اعلان کیا۔
صوبائی کابینہ نے ملیر میں کراچی انڈسٹریل پارک کے قیام کے لیے 1,275 ایکڑ سرکاری زمین کی پراسیسنگ کی منظوری بھی دی۔ ڈان کے مطابق یہ زمین پاکستان اسٹیل ملز سے وابستہ علاقوں میں صنعتی سرگرمی بڑھانے کے لیے حکومتی سطح کے انتظام کے تحت استعمال کرنے کی تجویز ہے، جبکہ موجودہ اسٹیل پلانٹ یا نئے اسٹیل مل منصوبے کے لیے مختص 700 ایکڑ زمین برقرار رکھی جائے گی۔
