اسلام آباد: پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر ریمنڈاس کاروبلس نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس تجارتی ترجیحات کا تسلسل خودکار یا یقینی نہیں ہوگا، کیونکہ موجودہ یورپی جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز فریم ورک 2026 کے اختتام پر ختم ہو رہا ہے اور پاکستان کو اس کے جانشین نظام میں دوبارہ شمولیت کے لیے درخواست دینا ہوگی۔

ڈان سے گفتگو میں یورپی سفیر نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ صورت حال میں بہتری کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے اور یہ پیش رفت دوبارہ درخواست کے عمل میں اہم ہوگی۔ ان کے مطابق جی ایس پی پلس فوائد کو معمول یا مستقل حق سمجھنا درست نہیں، کیونکہ نئی اسکیم زیادہ سخت شرائط کے ساتھ نافذ ہوگی اور ہر مستفید ملک کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔

موجودہ نظام کے خاتمے کے بعد پاکستان سمیت موجودہ مستفید ممالک کے لیے دو سالہ عبوری مدت رکھی گئی ہے جو 31 دسمبر 2028 تک جاری رہ سکتی ہے۔ تاہم یورپی سفارت کار نے واضح کیا کہ عبوری عرصہ نئے نظام میں خودکار شمولیت یا مکمل دو سال تک بلاشرط فوائد جاری رہنے کی ضمانت نہیں۔ پاکستان کو قانونی، انسانی حقوق، مزدور حقوق، طرز حکمرانی اور دیگر متعلقہ بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عملدرآمد کے حوالے سے یورپی یونین کے جائزے کا سامنا رہے گا۔

یورپی کمیشن نے 2023 سے 2025 تک کی مدت کا ایک جائزہ جولائی 2026 میں جاری کیا تھا، جس میں پاکستان کی بعض قانون سازی اور انتظامی اقدامات کو تسلیم کرنے کے ساتھ کئی شعبوں میں عملدرآمد کی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، آزادی اظہار، صحافیوں اور اقلیتوں کے حقوق، عدالتی خودمختاری، انصاف تک رسائی اور جبری مشقت سمیت متعدد موضوعات پر تحفظات بیان کیے گئے تھے۔ یہ یورپی کمیشن کا جائزہ ہے اور پاکستانی حکومت نے اس کی بعض تشریحات سے اختلاف کیا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کا مؤقف ہے کہ یورپی کمیشن کی رپورٹ نے ملک کی مجموعی کارکردگی کی مکمل طور پر متوازن تصویر پیش نہیں کی، اگرچہ اسلام آباد نے 27 بین الاقوامی کنونشنز کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے اور عملدرآمد کی اہمیت تسلیم کی ہے۔ پاکستان اور برسلز کے درمیان اس وقت جی ایس پی پلس کے مستقبل اور نئے نظام میں شمولیت کے تقاضوں پر سفارتی بات چیت جاری ہے۔

جی ایس پی پلس پاکستان کی برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل اور ملبوسات، کے لیے اہم ہے کیونکہ یہ یورپی منڈی میں متعدد مصنوعات کو کم یا صفر ڈیوٹی پر رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس سہولت میں کسی رکاوٹ یا شرائط میں سختی کا اثر برآمدی آرڈرز، مسابقت، زرمبادلہ کی آمدن اور صنعت سے وابستہ روزگار پر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے حکومت اور برآمدی شعبے کے لیے دوبارہ درخواست کا عمل محض سفارتی نہیں بلکہ معاشی اہمیت کا معاملہ بھی ہے۔

یورپی یونین کی تازہ تنبیہ کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کی جی ایس پی پلس حیثیت فوری طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ موجودہ ترجیحات ابھی نافذ ہیں اور عبوری انتظام بھی موجود ہے، لیکن نئی اسکیم میں مستقل شمولیت کے لیے پاکستان کو یورپی یونین کے طے کردہ معیار پر اپنی اہلیت ثابت کرنا ہوگی۔ آئندہ مہینوں میں اسلام آباد کی قانونی اور انتظامی پیش رفت، یورپی کمیشن کی نگرانی اور دونوں فریقوں کے مذاکرات اس عمل کی سمت متعین کریں گے۔