اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کے موجودہ یورو بانڈ قرض کی ٹوکنائزیشن کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے اور کابینہ کی منظوری حاصل ہونے کے بعد اس منصوبے کے لیے تجاویز طلب کرنے کی دستاویز، یعنی آر ایف پی، جاری کی جا سکتی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق انہوں نے یہ بات پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور لمز کے زیر اہتمام ’ڈیجیٹل اثاثے اور بینکاری کا مستقبل‘ کے موضوع پر ورچوئل خطاب میں کہی۔
وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ معاملہ ابھی غور اور منظوری کے مرحلے میں ہے۔ اس لیے اسے یورو بانڈ قرض کی ٹوکنائزیشن کا حتمی فیصلہ یا جاری شدہ مالیاتی آلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے مطابق حکومت پہلے کابینہ کی منظوری چاہتی ہے اور اس کے بعد ہی مارکیٹ سے تجاویز طلب کرنے کی جانب بڑھے گی۔
ٹوکنائزیشن سے مراد کسی مالی اثاثے یا اس پر حق ملکیت کی ڈیجیٹل نمائندگی تیار کرنا ہے، جسے بلاک چین یا اسی نوعیت کے تقسیم شدہ لیجر پر ریکارڈ اور منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یورو بانڈ پاکستان کے غیر ملکی کرنسی میں جاری کردہ خودمختار قرض کے آلات ہیں جن کے ذریعے حکومت بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے سرمایہ حاصل کرتی ہے۔ مجوزہ اقدام موجودہ قرض کے ڈیجیٹل ڈھانچے سے متعلق ہے، نئی قرض گیری کی خودکار منظوری نہیں۔
اورنگزیب نے ترسیلات زر کو بھی ٹوکنائزیشن کے ممکنہ استعمال کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال پاکستان کو 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں اور موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے رجحان سے سالانہ رقم 44 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان بنتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مالیاتی جدت کی افادیت اس بنیاد پر جانچی جانی چاہیے کہ آیا اس سے کاروباری لاگت کم، مالی شمولیت وسیع اور ادائیگیاں زیادہ مؤثر ہوتی ہیں۔
وزیر خزانہ نے ڈیجیٹل اثاثوں کی مختلف اقسام میں فرق پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق ٹوکنائزڈ بینک ڈپازٹ، اسٹیبل کوائن اور غیر پشت پناہی والے کرپٹو اثاثے ایک جیسے خطرات نہیں رکھتے، اس لیے ریگولیٹری رویہ بھی متعلقہ مالی سرگرمی اور خطرے کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے تحت پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی لائسنسنگ اور نگرانی کی ذمہ دار ہے۔
اورنگزیب نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے لائسنس یافتہ کاروباروں کو شرائط کے ساتھ بینکاری خدمات فراہم کرنے کا راستہ دیا ہے، جبکہ بینکوں کے اپنے فنڈز یا صارفین کے ڈپازٹس سے ورچوئل اثاثوں میں سرمایہ کاری، تجارت یا انہیں رکھنے پر پابندیاں برقرار ہیں۔ انہوں نے سائبر سکیورٹی خطرات کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے بینکوں اور ریگولیٹرز سے تکنیکی مہارت اور نگرانی مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا۔
حکومت کا اگلا قابل تصدیق مرحلہ کابینہ کی منظوری ہوگا۔ اس کے بعد آر ایف پی، تکنیکی ڈھانچے، قانونی شرائط، سرمایہ کاروں کی اہلیت اور ممکنہ عمل درآمد کی تفصیلات سامنے آنے پر ہی واضح ہوگا کہ یورو بانڈ ٹوکنائزیشن کا منصوبہ کس پیمانے اور کس طریقے سے آگے بڑھ سکتا ہے۔

