اسلام آباد: پاکستان کی یورپی ممالک کو برآمدات مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر 1.84 فیصد کم ہو کر 2.350 ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ریکارڈ پر مبنی ہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یورپی منڈیوں کو برآمدات 2.394 ارب ڈالر تھیں۔

یہ کمی اس لیے بھی توجہ طلب ہے کہ پاکستان کو یورپی یونین کی منڈی میں جی ایس پی پلس کے تحت ترجیحی تجارتی رسائی حاصل ہے۔ اس سہولت کا مقصد اہل پاکستانی مصنوعات کے لیے یورپی منڈی تک رسائی کو بہتر بنانا ہے، تاہم تازہ سہ ماہی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ترجیحی رسائی کے باوجود مجموعی برآمدی قدر میں سال بہ سال معمولی کمی ریکارڈ ہوئی۔

اعداد و شمار میں 2.394 ارب ڈالر سے 2.350 ارب ڈالر تک کمی تقریباً 44 ملین ڈالر بنتی ہے۔ یہ فرق بذات خود پاکستان کی پوری برآمدی کارکردگی کی حتمی تصویر نہیں، کیونکہ صرف ایک سہ ماہی اور ایک خطے کے اعداد و شمار زیر بحث ہیں، لیکن یورپ پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے اہم منڈی ہونے کے باعث اس رجحان کی نگرانی ضروری ہے۔ آنے والی سہ ماہیوں کے اعداد و شمار سے واضح ہوگا کہ یہ کمی عارضی اتار چڑھاؤ تھی یا وسیع تر رجحان کا حصہ بن رہی ہے۔

جی ایس پی پلس جیسی ترجیحی سہولت برآمد کنندگان کو ٹیرف کے محاذ پر فائدہ دے سکتی ہے، مگر حقیقی برآمدی کارکردگی کا تعلق مصنوعات کی عالمی طلب، قیمت، معیار، ترسیل کے اخراجات، شرح مبادلہ، صنعتی پیداوار اور خریدار منڈیوں کی معاشی صورتحال سمیت متعدد عوامل سے رہتا ہے۔ اسی لیے صرف ترجیحی تجارتی حیثیت کو برآمدی اضافے کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔

پاکستان کے لیے برآمدی آمدن بیرونی ادائیگیوں، زرمبادلہ کے ذخائر اور تجارتی خسارے کے انتظام میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ یورپی منڈی میں کمی اگر آئندہ مہینوں میں برقرار رہتی ہے تو پالیسی سازوں اور برآمدی صنعتوں کے لیے مصنوعات کی مسابقت، نئی منڈیوں، ویلیو ایڈیشن اور تجارتی سہولت کاری پر زیادہ توجہ کی ضرورت پیدا ہو سکتی ہے۔ فی الحال دستیاب سرکاری اعداد و شمار صرف پہلی سہ ماہی میں 1.84 فیصد کمی کی تصدیق کرتے ہیں؛ مکمل مالی سال کے نتیجے کے بارے میں ابھی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔