وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ پاکستان ایکسپریس وے منصوبہ ملک کے اندر تیز رفتار زمینی رابطہ بہتر کرنے کے ساتھ وسطی ایشیا اور دیگر علاقائی منڈیوں سے تجارت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ حکومت سڑک اور موٹروے نیٹ ورک کو علاقائی تجارتی راہداریوں سے جوڑنے کو معاشی حکمت عملی کا حصہ بنا رہی ہے۔
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت وسطی ایشیا، چین، افغانستان، ایران اور بحیرہ عرب کے درمیان زمینی رابطے کی گنجائش فراہم کرتی ہے۔ بہتر شاہراہیں بندرگاہوں سے مال کی ترسیل کا وقت اور لاگت کم کر سکتی ہیں، لیکن سرحدی کسٹمز، سکیورٹی اور ہمسایہ ممالک کے ٹرانزٹ معاہدے بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
وزیر کے مطابق ایکسپریس وے نیٹ ورک صرف مسافر آمدورفت کا منصوبہ نہیں بلکہ صنعتی اور تجارتی سرگرمی کو سہولت دینے والا انفراسٹرکچر ہوگا۔ لاجسٹکس کی کم لاگت برآمد کنندگان کے لیے مسابقت بہتر اور اندرون ملک زرعی و صنعتی مصنوعات کی منڈی تک رسائی آسان کر سکتی ہے۔
بڑے سڑک منصوبوں کے ساتھ زمین کے حصول، مالی لاگت، ٹول پالیسی اور تعمیراتی معیار جیسے معاملات اہم ہوتے ہیں۔ علاقائی تجارت کا فائدہ اسی صورت مکمل ہوگا جب شاہراہوں کے ساتھ خشک بندرگاہیں، گودام، کسٹمز اور مال برداری کے جدید نظام بھی تیار ہوں۔
حکومت کا علاقائی رابطہ کاری کا ہدف پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ حالیہ مذاکرات سے بھی جڑا ہے۔ پاکستان ایکسپریس وے کے عملی معاشی اثر کا جائزہ منصوبے کی تکمیل، مال برداری کے حجم، سفر کے وقت اور سرحد پار تجارت میں حقیقی اضافے سے کیا جائے گا۔




