اسلام آباد: پاکستان نے 2030 تک بنیادی آنکھوں کی نگہداشت کی خدمات 6 کروڑ افراد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے تحت کم از کم 150 دیہی مراکز صحت کو جدید پرائمری آئی کیئر مراکز میں تبدیل کیا جائے گا۔ یہ عزم گلوبل سمٹ فار آئی ہیلتھ کے موقع پر سامنے آیا اور اس کا بنیادی مقصد دور دراز اور کم سہولت یافتہ آبادیوں میں آنکھوں کے معائنے، بروقت تشخیص اور علاج تک رسائی میں موجود خلا کم کرنا ہے۔

منصوبے کے مطابق منتخب رورل ہیلتھ سینٹرز کو ایڈوانسڈ پرائمری آئی کیئر مراکز کے طور پر فعال کیا جائے گا۔ ہر مرکز میں تربیت یافتہ آپٹومیٹرسٹ تعینات کرنے اور آنکھوں کے بنیادی معائنے، نظر کی پیمائش، موتیا، گلوکوما اور ذیابیطس سے منسلک ریٹینوپیتھی کی ابتدائی شناخت، کم بصارت کی بنیادی نگہداشت اور ضرورت کے مطابق مریضوں کو اعلیٰ سطح کے مراکز بھیجنے کی سہولت فراہم کرنے کا ارادہ ہے۔

پروگرام میں افرادی قوت اور نگرانی کے نظام کو بھی مضبوط کرنے کی تجویز شامل ہے۔ کم از کم چار سرکاری آپٹیکل ٹیکنیشن تربیتی پروگراموں کو بہتر بنا کر 2030 تک 200 ٹیکنیشن تیار کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ آنکھوں کی صحت سے متعلق یکساں اشاریے ڈسٹرکٹ ہیلتھ انفارمیشن سسٹم میں شامل کیے جائیں گے تاکہ خدمات کی فراہمی اور پیش رفت کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جا سکے۔

منصوبے میں خواتین، دیہی آبادی اور معذور افراد کی رسائی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ہر جدید پرائمری آئی کیئر مرکز کے لیے مکمل رپورٹنگ جبکہ ضلعی اور ذیلی ضلعی آئی یونٹس کے لیے کم از کم 95 فیصد رپورٹنگ کا ہدف تجویز کیا گیا ہے۔ سہولیات، تربیت اور سروس ڈیلیوری میں معذوری سے متعلق شمولیتی اقدامات بھی شامل کیے جائیں گے۔

انٹرنیشنل ایجنسی فار دی پریوینشن آف بلائنڈنس کے ایک تجزیے کے مطابق 2026 سے 2030 کے دوران پاکستان کے آئی ہیلتھ شعبے میں 148 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے اندازاً 709 ملین ڈالر کے معاشی و سماجی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ یہ تخمینے ممکنہ فوائد کی ماڈلنگ ہیں، حتمی نتائج نہیں۔ سائٹ سیورز کی پاکستان اور مشرق وسطیٰ کی ڈائریکٹر منیزہ گیلانی کے مطابق چشمے، موتیا کی سرجری اور قابل علاج آنکھوں کی بیماریوں کی بروقت دیکھ بھال تعلیم، روزگار اور خودمختاری پر براہ راست مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔