اسلام آباد: اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت، ایف اے او، کی ایک رپورٹ نے نشاندہی کی ہے کہ پاکستان کی مجموعی غذائی رسد کئی اہم غذائی گروپوں میں ملک کے اپنے غذائی رہنما اصولوں کی تجویز کردہ مقدار پوری نہیں کرتی۔ ڈان کی 26 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق خاص طور پر سبزیوں، جڑ اور زیر زمین اگنے والی غذاؤں، پھلوں اور دالوں کی دستیابی میں مستقل کمی سامنے آئی ہے۔

رپورٹ غذائی نظام کو صرف مجموعی کیلوریز کے بجائے متوازن خوراک کے نقطۂ نظر سے دیکھتی ہے۔ کسی ملک میں اناج یا بنیادی کیلوریز کی وافر دستیابی لازماً اس بات کی ضمانت نہیں کہ آبادی کو وٹامنز، معدنیات، پروٹین اور فائبر سمیت تمام ضروری غذائی اجزا مناسب مقدار میں مل رہے ہیں۔ اسی لیے مختلف فوڈ گروپوں کی دستیابی کو قومی غذائی سفارشات سے موازنہ کیا گیا ہے۔

پاکستان میں گندم اور دیگر اناج روزمرہ خوراک کا بڑا حصہ ہیں، جبکہ پھل، سبزیاں اور دالیں قیمت، موسمی دستیابی، پیداوار، ذخیرہ کاری اور گھریلو آمدن جیسے عوامل سے متاثر ہوتی ہیں۔ ایف اے او کی نشاندہی پالیسی سازوں کے لیے اہم ہے کیونکہ غذائی رسد میں عدم توازن بچوں کی نشوونما، خواتین کی صحت اور کم آمدن گھرانوں میں غذائی معیار پر اثر ڈال سکتا ہے۔

تاہم قومی سطح پر خوراک کی دستیابی اور کسی فرد کی اصل خوراک ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ سپلائی کے اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ ملک میں مختلف غذائی گروپ مجموعی طور پر کتنی مقدار میں دستیاب ہیں، جبکہ ان کی تقسیم، قیمت اور گھرانوں کی قوت خرید یہ طے کرتی ہے کہ کون سی خوراک کس صارف تک پہنچتی ہے۔ اس لیے رپورٹ کو انفرادی غذائی تشخیص کے بجائے قومی غذائی نظام کے ساختی جائزے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

غذائیت بخش خوراک کی رسد بہتر بنانے کے لیے زرعی پیداوار میں تنوع، کولڈ چین اور ذخیرہ کاری، منڈی تک رسائی اور خوراک کے ضیاع میں کمی جیسے اقدامات اہم ہو سکتے ہیں۔ دالوں اور باغبانی کی فصلوں کی پیداوار میں اضافہ غذائی معیار کے ساتھ درآمدی ضروریات اور کسانوں کی آمدن پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

ایف اے او کی رپورٹ پالیسی سطح پر یہ سوال اٹھاتی ہے کہ پاکستان کا زرعی اور غذائی نظام صرف بنیادی اجناس کی مقدار بڑھانے کے بجائے متوازن اور قابل استطاعت خوراک کی فراہمی کس طرح یقینی بنائے۔ رپورٹ میں بیان کردہ کمی کسی فوری قحط یا تمام خوراک کی قلت کا اعلان نہیں بلکہ مخصوص غذائی گروپوں میں قومی سفارشات کے مقابلے میں رسد کے فرق کی نشاندہی ہے۔