اسلام آباد: وفاقی حکومت نے وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کو اسلام آباد کے پائلٹ مرحلے کے بعد 16 ستمبر 2026 کی رات 11:59 بجے ملک بھر میں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت انتظامی جائزہ اجلاس میں رجسٹریشن کو آسان رکھنے، عوامی آگاہی بڑھانے اور پیٹرول پمپوں پر اسکیم کے ہموار نفاذ کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات دی گئیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ اسکیم پہلے اسلام آباد میں فعال ہے اور اب اسے مقررہ وقت پر پورے پاکستان تک توسیع دی جائے گی۔ نائب وزیراعظم نے منتخب نمائندوں اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کے رضاکاروں کو شہریوں تک معلومات پہنچانے اور رجسٹریشن میں مدد دینے کے عمل میں شامل کرنے کی ہدایت کی تاکہ اہل صارفین عملی طور پر ریلیف حاصل کر سکیں۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق قومی اسٹیئرنگ کمیٹی برائے فیول سبسڈی نے پیٹرول پمپوں کو اسکیم کے تحت واجب الادا رقم 24 گھنٹے میں ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔ صوبوں کو ضلع سطح پر رابطہ اور آگاہی مکمل کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے تاکہ ملک گیر آغاز کے وقت انتظامی رکاوٹیں کم رہیں۔

حکومت کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق موٹر سائیکل استعمال کرنے والے اہل صارفین کو ہر ہفتے پانچ لیٹر تک سبسڈائزڈ پیٹرول ملے گا، جبکہ اہل چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو ہر دس دن میں دس لیٹر تک رعایت دی جائے گی۔ موسمیاتی تبدیلی کے وفاقی وزیر مصدق ملک نے بتایا کہ اسکیم کے تحت فی لیٹر 100 روپے ریلیف رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی قیمتوں اور سرکاری مالی گنجائش کے تناظر میں حکومت اس سے زیادہ بوجھ فی الحال برداشت نہیں کر سکتی۔

یہ اسکیم ایسے وقت ملک گیر سطح پر شروع کی جا رہی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور توانائی کی ترسیل کے راستوں میں رکاوٹوں کے باعث عالمی تیل اور ایل این جی منڈیوں پر دباؤ بڑھا ہے۔ وفاقی وزرا کے مطابق آبنائے ہرمز اور باب المندب سے متعلق خطرات نے درآمدی ایندھن کی قیمت اور دستیابی دونوں کو متاثر کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بجلی پیدا کرنے کے لیے مقامی وسائل کے زیادہ استعمال سے درآمدی ایندھن پر دباؤ کچھ حد تک کم رکھا گیا۔

وزیر توانائی اویس لغاری کے مطابق اگست 2026 میں بجلی کی پیداوار کا 72 فیصد حصہ مقامی ذرائع سے حاصل کیا گیا، جن میں پن بجلی، مقامی کوئلہ، جوہری توانائی، مقامی گیس، ہوا اور شمسی توانائی شامل ہیں۔ حکومت نے ساتھ ہی ان افواہوں کی تردید کی ہے کہ فیول بحران کے باعث فوری طور پر کوئی نام نہاد اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اسکیم کے حقیقی مالی اثرات اور اہل صارفین تک رسائی کا اندازہ ملک گیر نفاذ کے بعد دستیاب اعدادوشمار سے ہوگا۔