اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک نے قومی اسمبلی میں تحریری جواب میں بتایا ہے کہ 30 جون 2026 تک پاکستان کے گیس شعبے کا گردشی قرض اور مقامی گیس و ایل این جی سپلائرز کے بقایا واجبات ملا کر 5.454 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے تھے۔ فراہم کردہ تفصیل کے مطابق خود گردشی قرض 3.631 ٹریلین روپے جبکہ گیس سپلائرز کے واجبات 1.823 ٹریلین روپے تھے۔

وزیر پیٹرولیم کے مطابق 3.631 ٹریلین روپے کے گردشی قرض میں 1.448 ٹریلین روپے ٹیرف کے فرق سے متعلق ہیں۔ بجلی کمپنیوں سے 131 ارب روپے وصول طلب ہیں، سیلز اور انکم ٹیکس سے متعلق وصولیوں کی رقم 210 ارب روپے جبکہ قانونی مقدمات سے منسلک رقم 59 ارب روپے بتائی گئی۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ مجموعی اصل رقم 1.848 ٹریلین روپے اور لیٹ پیمنٹ سرچارج 1.783 ٹریلین روپے بنتا ہے۔

تحریری جواب میں مقامی گیس سپلائرز کے واجبات 1.479 ٹریلین روپے بتائے گئے، جبکہ ایل این جی سپلائرز کے واجبات، جن میں آر ایل این جی قیمت کی حتمی ایڈجسٹمنٹ اور ڈائیورژن لاگت بھی شامل ہے، 344 ارب روپے ہیں۔ یہ اعداد وزارت کی جانب سے قومی اسمبلی کو فراہم کردہ سرکاری جواب پر مبنی ہیں اور 30 جون 2026 کی پوزیشن ظاہر کرتے ہیں۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ گردشی قرض مینجمنٹ پلان متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ساتھ حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ضروری مشاورت اور غور کے بعد منصوبہ مجاز فورم کو منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ مطلوبہ منظوریوں کے بعد حتمی منصوبہ جاری پالیسی اور اصلاحاتی فریم ورک کے تحت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا۔

وزیر نے ایک الگ سوال کے جواب میں ملکی تیل و گیس ذخائر کے اعداد بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق پاکستان کے مجموعی قابل بازیافت تیل کے ذخائر 1,378 ملین بیرل تھے، جن میں سے 1,102 ملین بیرل پیدا کیے جا چکے ہیں اور 276 ملین بیرل قابل بازیافت ذخائر باقی ہیں۔ اسی طرح مجموعی قابل بازیافت گیس ذخائر 68,803 ارب مکعب فٹ بتائے گئے، جن میں سے 48,140 ارب مکعب فٹ پیدا کیے جا چکے اور 20,664 ارب مکعب فٹ باقی ہیں۔

گیس شعبے کا گردشی قرض سرکاری اداروں، سپلائرز اور صارفین کے درمیان ادائیگیوں کے سلسلے پر دباؤ بڑھاتا ہے۔ حکومت کی جانب سے زیر تیاری مینجمنٹ پلان کی حتمی ساخت، منظوری اور عمل درآمد کی تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں؛ اس لیے موجودہ بیان کو قرض ختم کرنے کے مکمل شدہ اقدام کے بجائے مالی پوزیشن اور زیر تیاری اصلاحاتی عمل کی سرکاری وضاحت سمجھا جانا چاہیے۔