اسلام آباد: وفاقی حکومت نے تمام صوبوں سے مشاورت کے بعد گندم کی قیمت 4,500 روپے فی من مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کے مطابق یہ فیصلہ نئی قومی گندم پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد کسانوں کے مفادات کا تحفظ، ملکی غذائی تحفظ مضبوط بنانا اور گندم کی منڈی میں استحکام پیدا کرنا ہے۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 26 اکتوبر کو جاری سرکاری بیان کے مطابق وزیر نے اسلام آباد میں پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ قیمت کے تعین سے پہلے صوبائی حکومتوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی گئی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ طے شدہ قیمت مقامی کاشتکاروں کو نسبتاً قابل پیش گوئی معاوضہ دینے کے ساتھ مارکیٹ میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ کم کرنے میں مدد دے گی۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ رواں سال ملک میں 60 لاکھ میٹرک ٹن تک گندم کے اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی جائے گی تاکہ ممکنہ رسدی خلل کی صورت میں دستیابی متاثر نہ ہو۔ ان کے مطابق پاسکو کے ذخائر سے صوبوں کو 13 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ گندم فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ صوبائی ضرورت اور طلب سامنے آنے پر ساڑھے پانچ لاکھ میٹرک ٹن تک گندم درآمد کرنے کا انتظام بھی کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ ملک میں رواں سال گندم کی قلت نہیں ہوگی اور حالیہ قیمتوں میں اضافے کو بعض مارکیٹ عناصر کی مصنوعی سرگرمیوں سے جوڑا۔ یہ حکومت کا مؤقف ہے اور مارکیٹ میں قیمتوں کی حقیقی سمت طلب، رسد، صوبائی خریداری اور نجی تجارت سمیت متعدد عوامل سے طے ہوگی۔ وزیر نے کہا کہ حکومت مصنوعی قلت، قیاس آرائی اور بلاجواز قیمت بڑھانے کی کوششوں کی نگرانی کرے گی۔

حکومت کے مطابق درآمدی گندم کی لاگت بھی تقریباً 4,500 روپے فی من بننے کا تخمینہ ہے، اس لیے ملکی کسانوں سے خریداری کو ترجیح دینا زیادہ مناسب سمجھا گیا ہے۔ سرکاری بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ بیج، زیتون اور بائیوٹیکنالوجی سے متعلق پالیسیاں زرعی پیداوار بہتر بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کی وسیع اصلاحاتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے قیمت کے فیصلے اور مشاورتی عمل کا خیر مقدم کیا۔ نئی پالیسی کے عملی اثرات کا انحصار اب صوبائی خریداری کے طریقہ کار، ذخیرہ اندوزی کے خلاف اقدامات، کسانوں تک بروقت معلومات اور آئندہ فصل کے پیداواری اخراجات پر ہوگا۔