کراچی: لکی گروپ اور قطر انرجی سے منسلک کنسورشیم نے پورٹ قاسم میں مجوزہ ایل این جی ٹرمینل منصوبے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ منصوبے سے وابستہ اینرگاس نے اس فیصلے کے لیے پاکستان کی توانائی پالیسی میں تبدیلیوں اور حکومت کے ساتھ طویل عرصے سے حل طلب پالیسی اور مالی معاملات کو اہم عوامل قرار دیا ہے۔
مجوزہ ٹرمینل نجی شعبے کی جانب سے مائع قدرتی گیس کی درآمد اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے منصوبوں میں شامل تھا۔ ایل این جی ٹرمینلز ملک کی گیس فراہمی میں درآمدی ایندھن شامل کرنے کے لیے اہم بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتے ہیں، تاہم ایسے منصوبوں کی تجارتی کامیابی درآمدی پالیسی، گیس کی طلب، قیمت، پائپ لائن تک رسائی اور سرکاری منظوریوں سمیت کئی عوامل سے وابستہ ہوتی ہے۔
اینرگاس کے مطابق پالیسی ماحول میں تبدیلی اور حل طلب مالی و ضابطہ جاتی معاملات نے منصوبے کی پیش رفت کو متاثر کیا۔ کمپنی کا یہ مؤقف منصوبے سے دستبرداری کی کاروباری وجہ کے طور پر سامنے آیا ہے؛ حکومت کی جانب سے تمام نکات پر تفصیلی ردعمل دستیاب معلومات میں شامل نہیں۔ اس لیے کسی مخصوص فریق پر قانونی یا مالی ذمہ داری عائد کرنے کے بجائے اسے سرمایہ کار کنسورشیم کا تجارتی فیصلہ سمجھا جا رہا ہے۔
پاکستان میں گیس کی مقامی پیداوار اور طلب کے درمیان فرق نے گزشتہ برسوں میں ایل این جی درآمدات کی اہمیت بڑھائی ہے۔ تاہم عالمی قیمتوں، طویل مدتی معاہدوں، سرکاری خریداری اور نجی درآمدات کے ضابطوں میں تبدیلی سے اس شعبے کے منصوبوں کی معاشی ساخت متاثر ہوتی ہے۔ پورٹ قاسم پہلے ہی ملک کے اہم توانائی اور بندرگاہی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
کنسورشیم کی دستبرداری سے مجوزہ منصوبہ اپنی موجودہ شکل میں آگے نہیں بڑھے گا، البتہ اس سے پاکستان میں مستقبل کی نجی ایل این جی سرمایہ کاری کے تمام امکانات ختم نہیں ہوتے۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار حکومت کی توانائی پالیسی، گیس مارکیٹ کے ضابطوں اور ممکنہ سرمایہ کاروں کے تجارتی فیصلوں پر ہوگا۔
