اسلام آباد: سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے خیبر پختونخوا کے تین بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کو تکنیکی طور پر کلیئر کرتے ہوئے حتمی منظوری کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) کو بھیج دیا ہے۔ ان منصوبوں کی مجموعی مالیت تقریباً 100 ارب روپے بنتی ہے اور ان میں آبپاشی، آف گرڈ شمسی توانائی اور اہم شاہراہ کی بہتری شامل ہے۔
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت اجلاس میں خیبر پختونخوا ریزیلینٹ اریگیٹڈ ایگریکلچر لائیولی ہڈز ڈیولپمنٹ پراجیکٹ، جس کی مالیت 69.89 ارب روپے ہے، ایکنک کو سفارش کے ساتھ بھیجا گیا۔ منصوبے میں پیہور مین کینال کی بحالی، ملک خو آبپاشی تقسیم نظام کی تعمیر اور پیہور ہائی لیول کینال کی توسیع شامل ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اس منصوبے کے لیے تقریباً 200 ملین ڈالر کی معاونت فراہم کرے گا جبکہ صوبائی حکومت بھی مالی حصہ ڈالے گی۔
سی ڈی ڈبلیو پی نے نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے 13.32 ارب روپے کی وزیراعظم سولر اسکیم بھی ایکنک کو بھیج دی۔ منصوبے کا مقصد ایسے گھرانوں کو آف گرڈ شمسی توانائی کے حل فراہم کرنا ہے جہاں بجلی کی قابل اعتماد فراہمی محدود ہے۔ اس کے علاوہ این-45 کے چکدرہ تا تیمرگرہ 39 کلومیٹر حصے کی بہتری اور توسیع کا 17.01 ارب روپے کا منصوبہ بھی سفارش کے ساتھ ایکنک کو ارسال کیا گیا۔
اجلاس میں ملک کے دیگر حصوں کے منصوبے بھی زیر غور آئے۔ مجموعی طور پر 14 منصوبوں کو مختلف سطحوں پر کلیئر کیا گیا جن کی تخمینی لاگت 226.48 ارب روپے ہے۔ مالیاتی قواعد کے تحت سی ڈی ڈبلیو پی محدود لاگت تک منصوبوں کی براہ راست منظوری دے سکتی ہے، جبکہ بڑے منصوبوں کو حتمی منظوری کے لیے ایکنک کے پاس بھیجا جاتا ہے۔ اس لیے خیبر پختونخوا کے مذکورہ بڑے منصوبوں کے بارے میں موجودہ فیصلہ حتمی مالی منظوری نہیں بلکہ ایکنک کے لیے سفارش ہے۔
منصوبوں میں آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے، زرعی پیداوار، دیہی روزگار، بجلی تک رسائی اور بین الاضلاعی رابطوں کو بہتر بنانے کے اہداف شامل ہیں۔ چکدرہ تا تیمرگرہ سڑک کی بہتری سے دیر اور چترال سمیت شمالی علاقوں کی جانب آمدورفت، تجارت اور سیاحت کے راستوں کو بہتر بنانے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ اب ان بڑے منصوبوں پر اگلا فیصلہ ایکنک کرے گی، جہاں لاگت، فنانسنگ اور عمل درآمد کے انتظامات کی حتمی منظوری درکار ہوگی۔
