اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 27 اکتوبر 2026 کے لیے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 1 روپے 54 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 379 روپے 25 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 2 روپے 16 پیسے فی لیٹر مہنگا ہو کر 395 روپے 82 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ نئی قیمتیں منگل 27 اکتوبر سے نافذ ہیں۔

ڈان، ایکسپریس ٹریبیون اور دنیا نیوز نے پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے حوالے سے نئی قیمتوں کی تصدیق کی ہے۔ گزشتہ نظرثانی میں 24 سے 26 اکتوبر کے لیے پیٹرول 377 روپے 71 پیسے فی لیٹر پر برقرار رکھا گیا تھا جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 393 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کیا گیا تھا۔ اس طرح تازہ فیصلے میں دونوں بڑی موٹر فیول مصنوعات کی قیمتیں بیک وقت بڑھی ہیں۔

حکومت نے 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں زیادہ بار نظرثانی کا عمل اپنایا ہے۔ اوگرا کا سرکاری پرائس پبلیکیشن پورٹل اکتوبر میں متعدد قیمت نامے دکھاتا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں تبدیلیاں اب مختصر وقفوں سے سامنے آ رہی ہیں۔ قیمت کے تعین میں عالمی تیل کی قیمت، درآمدی لاگت، شرح مبادلہ اور متعلقہ حکومتی محصولات اہم اجزا ہوتے ہیں۔

پیٹرول بنیادی طور پر موٹر سائیکلوں، کاروں اور دیگر ہلکی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ براہ راست نجی ٹرانسپورٹ کے روزمرہ اخراجات بڑھاتا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل مال بردار گاڑیوں، بسوں، زرعی مشینری اور کئی صنعتی سرگرمیوں میں استعمال ہوتا ہے، لہٰذا اس کی قیمت میں تبدیلی نقل و حمل اور سپلائی چین کی لاگت پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ تاہم کسی مخصوص شے کی قیمت پر حتمی اثر کا انحصار متعلقہ کاروباری لاگت اور مارکیٹ حالات پر ہوگا۔

تازہ اضافہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی اور قیمتوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ حکومت اس سے قبل بڑھتی ایندھن لاگت کے تناظر میں کفایت شعاری کے اقدامات بھی دوبارہ متعارف کرا چکی ہے۔ آئندہ قیمتوں کا رخ عالمی خام تیل، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور حکومتی قیمت سازی کے فیصلوں سے وابستہ رہے گا۔