اسلام آباد: عالمی ادارہ برائے دانشورانہ املاک (WIPO) کے گلوبل انوویشن انڈیکس 2026 میں پاکستان چار درجے بہتری کے ساتھ دنیا کی 139 معیشتوں میں 95ویں مقام پر آ گیا ہے۔ گزشتہ سال پاکستان اس اشاریے میں 99ویں نمبر پر تھا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر ان معیشتوں میں جگہ بنائی ہے جن کی اختراعی کارکردگی ان کی معاشی ترقی کی سطح کے مقابلے میں توقع سے بہتر قرار دی جاتی ہے۔
WIPO کا گلوبل انوویشن انڈیکس مختلف معیشتوں میں تحقیق، ادارہ جاتی ماحول، انسانی سرمایہ، بنیادی ڈھانچے، کاروباری نفاست، علم و ٹیکنالوجی کی پیداوار اور تخلیقی نتائج سمیت متعدد عوامل کا جائزہ لیتا ہے۔ 2026 کی درجہ بندی میں پاکستان کے بارے میں رپورٹ نے بتایا کہ ملک کی اختراعی پیداوار، یعنی innovation outputs، اس کے innovation inputs کے مقابلے میں نسبتاً بہتر رہی۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ محدود وسائل اور ساختی رکاوٹوں کے باوجود بعض شعبوں میں دستیاب صلاحیت سے نسبتاً زیادہ نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔
پاکستان کو 2026 میں دوبارہ 'اوور پرفارمر' قرار دیا گیا ہے۔ یہ درجہ ان ممالک کو دیا جاتا ہے جو اپنی فی کس آمدن اور مجموعی معاشی سطح کے مقابلے میں اختراع کے میدان میں بہتر نتائج دیتے ہیں۔ پاکستان اس سے پہلے بھی مختلف برسوں، جن میں 2022 اور 2024 شامل ہیں، اس حیثیت میں آ چکا ہے۔ موجودہ بہتری اس لیے بھی اہم ہے کہ عالمی اختراعی درجہ بندی سرمایہ کاری، تحقیق و ترقی اور نئی ٹیکنالوجی کے ماحول کے بارے میں ایک تقابلی پیمانہ فراہم کرتی ہے۔
تاہم چار درجے کی بہتری کو پاکستان کے اختراعی نظام کے تمام مسائل کے حل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ عالمی اشاریہ متعدد الگ اشاریوں کا مجموعہ ہے اور کسی ملک کی مجموعی پوزیشن میں بہتری کے باوجود تحقیق کے اخراجات، اعلیٰ تعلیم، کاروباری سرمایہ، دانشورانہ املاک کے استعمال اور نئی ٹیکنالوجی کو تجارتی پیمانے تک پہنچانے جیسے شعبوں میں مزید کام کی ضرورت رہ سکتی ہے۔
WIPO کی درجہ بندی پالیسی سازوں کو یہ دیکھنے کا موقع دیتی ہے کہ ملک کن شعبوں میں اپنی معاشی سطح سے بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے اور کہاں ادارہ جاتی یا سرمایہ کاری کی رکاوٹیں موجود ہیں۔ پاکستان کی 95ویں پوزیشن ایک مثبت سالانہ پیش رفت ہے، لیکن عالمی سطح پر زیادہ مسابقتی اختراعی معیشتوں کے قریب پہنچنے کے لیے مستقل تحقیق، نجی سرمایہ کاری، مہارتوں اور ٹیکنالوجی کے کاروباری استعمال میں بہتری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
