اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سائبر سکیورٹی، ذمہ دارانہ سوشل میڈیا استعمال اور آن لائن خطرات سے متعلق عوامی آگاہی کو منظم کرنے کے لیے قومی سطح کی ایک کونسل قائم کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ حکومتی سطح پر زیرِ غور خاکے میں متعلقہ وفاقی وزارتوں، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، تعلیمی اداروں اور دیگر شراکت داروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کی تجویز شامل ہے۔

منصوبے کا مقصد انٹرنیٹ استعمال کرنے والے شہریوں، بالخصوص بچوں اور نوجوانوں، کو سائبر فراڈ، ہراسانی، آن لائن بُلنگ، جعلی معلومات اور ذاتی ڈیٹا کے تحفظ جیسے مسائل کے بارے میں عملی رہنمائی فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال اور ڈیجیٹل شہریت کے اصولوں کو تعلیمی و عوامی مہمات کا حصہ بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ سمیت حکومتی نمائندوں نے سائبر آگاہی کے لیے مختلف اداروں کے درمیان مربوط حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ مجوزہ کونسل کے ڈھانچے اور حتمی اختیارات کے بارے میں ابھی مکمل قانونی یا انتظامی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، اس لیے اسے فی الحال ایک حکومتی منصوبہ اور پالیسی سمت سمجھا جا رہا ہے، قائم شدہ ریگولیٹری ادارہ نہیں۔

پاکستان میں ڈیجیٹل خدمات اور سوشل میڈیا کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے ساتھ آن لائن دھوکہ دہی، اکاؤنٹ ہیکنگ، شناخت کے غلط استعمال اور بچوں کو نامناسب یا نقصان دہ مواد سے لاحق خطرات بھی پالیسی بحث کا حصہ بنے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ صرف قانون نافذ کرنے یا مواد کی نگرانی کافی نہیں اور شہریوں کی ڈیجیٹل تعلیم بھی ضروری ہے۔

مجوزہ اقدام میں آگاہی ہفتوں، تعلیمی مواد، تربیتی سرگرمیوں اور سرکاری و نجی شعبے کے تعاون جیسے طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی اے، آئی ٹی سے متعلق وفاقی اداروں اور تعلیمی شعبے کی شمولیت سے مہم کو اسکولوں، جامعات اور عام صارفین تک پہنچانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

اس نوعیت کے کسی بھی قومی فریم ورک میں اظہارِ رائے، پرائیویسی، بچوں کے تحفظ اور سائبر جرائم کے تدارک کے درمیان توازن اہم ہوگا۔ سوشل میڈیا سے متعلق پالیسی اقدامات پاکستان میں سیاسی اور شہری آزادیوں کے تناظر میں بحث کا موضوع رہے ہیں، اس لیے مجوزہ کونسل کے عملی کردار، اختیارات اور احتسابی طریقہ کار کی وضاحت اس کی ساکھ کے لیے اہم ہوگی۔

حکومت نے اس اقدام کو ڈیجیٹل ماحول میں محفوظ اور باخبر طرزِ عمل فروغ دینے کی کوشش کے طور پر پیش کیا ہے۔ حتمی شکل سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ کونسل محض آگاہی اور رابطہ کاری تک محدود رہے گی یا اسے پالیسی سفارشات اور ادارہ جاتی نگرانی میں بھی کوئی باضابطہ کردار دیا جائے گا۔