اسلام آباد: وزیراعظم کی تشکیل کردہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مکئی کی کمیٹی نے پاکستان میں GM مکئی کی تجارتی کاشت کی جانب اصولی طور پر بڑھنے اور اس کے لیے جامع منتقلی و نفاذی فریم ورک مکمل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت 31 اگست 2026 کے اجلاس کے بعد جاری سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ سفارشات کو جلد حتمی شکل دے کر متعلقہ حکام کے سامنے عمل درآمد کے لیے پیش کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت فوری اور غیر مشروط تجارتی کاشت کا مکمل نوٹیفکیشن نہیں۔ سرکاری بیان میں کسی مخصوص GM مکئی کے بیج، جینیاتی خصوصیت، کمپنی، رقبے، صوبے، لائسنس یا پہلی فصل کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ کمیٹی نے پالیسی کی سمت اور باہمی اتفاق طے کیا ہے، جبکہ عملی اجازتیں پاکستان کے بائیو سیفٹی قواعد، بیج کی رجسٹریشن اور دیگر متعلقہ ریگولیٹری مراحل کے تحت الگ جاری ہونا ہوں گی۔
اجلاس میں GM اور غیر GM مکئی کی کاشت کو ایک ساتھ جاری رکھنے کے اصول پر غور کیا گیا، جسے منظور شدہ قومی زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی سے ہم آہنگ قرار دیا گیا۔ کمیٹی نے کہا کہ منتقلی مرحلہ وار ہو، تاکہ کسان، بیج فراہم کرنے والے، مکئی کی پراسیسنگ صنعت اور برآمد کنندگان نئے نظام کے مطابق تیاری کر سکیں۔ غیر GM بیج کی مسلسل دستیابی اور غیر ضروری قیمت اضافے سے بچاؤ کو بھی فریم ورک کا لازمی حصہ بتایا گیا۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق صنعت کے نمائندوں نے منتقلی کی مدت، غیر GM بیج کی رسد اور موجودہ کاروبار پر ممکنہ اثرات کے بارے میں تحفظات پیش کیے۔ کمیٹی نے حفاظتی تدابیر، واضح رہنما اصول، حقیقت پسندانہ مدت اور نگرانی کے طریقۂ کار کے ساتھ ایسا نظام بنانے پر زور دیا جس میں دونوں اقسام الگ شناخت اور ضروری انتظام کے ساتھ چل سکیں۔ بیج صنعت، مکئی ملرز، جامعات، تکنیکی ماہرین اور برآمدی شعبے کی آرا شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
ڈان کے مطابق پاکستان نے تقریباً ایک دہائی قبل دو امریکی کمپنیوں، کورٹیوا اور بائر، کو GM مکئی کی آزمائشی کاشت کے لائسنس دیے تھے، جو بعد میں حیاتیاتی تنوع اور بیج کی وسیع رسد سے متعلق خدشات کے تناظر میں منسوخ ہوئے۔ نئی کمیٹی کا عمل ان سابق آزمائشوں سے الگ قومی تجارتی پالیسی اور منتقلی کے نظام کی تیاری سے متعلق ہے؛ پرانے آزمائشی لائسنس خود بخود بحال ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
حامی حلقے GM ٹیکنالوجی کو فصل کی پیداوار، کیڑوں کے خلاف مزاحمت اور جدید زرعی طریقوں سے جوڑتے ہیں۔ بعض سپلائرز اور امریکی حکام ماضی میں 15 سے 30 فیصد تک ممکنہ پیداواری اضافے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں، مگر یہ عمومی دعویٰ ہے؛ پاکستان میں کسی نئے تجارتی پروگرام کے مقامی نتائج ابھی موجود نہیں۔ پیداوار کا حقیقی اثر بیج کی قسم، آبپاشی، موسم، کیڑوں، زرعی طریقوں اور مقامی آزمائشوں پر منحصر ہو گا۔
دوسری جانب پاکستان کسان رابطہ کمیٹی، PKRC، نے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے GM فصلوں پر ملک گیر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے بیج پر کارپوریٹ کنٹرول، کسانوں کی سالانہ خریداری پر انحصار، ہوا کے ذریعے مکئی کی باہمی جرگ افشانی، مقامی حیاتیاتی تنوع اور غیر GM برآمدات کے ممکنہ نقصان سے متعلق خدشات ظاہر کیے۔ یہ PKRC کا مؤقف ہے؛ حکومت نے کہا ہے کہ انہی نوعیت کے خطرات کے لیے حفاظتی ضوابط اور باہمی وجود کا عملی نظام تیار کیا جائے گا۔
برآمد کنندگان کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ GM اور غیر GM پیداوار کو کھیت، ذخیرہ، نقل و حمل اور پراسیسنگ کے مراحل میں کس طرح الگ رکھا جائے گا، اور خریدار منڈیوں کے معیار، سرٹیفکیشن اور لیبلنگ کی پابندی کیسے ہو گی۔ سرکاری بیان نے ان مسائل کے حل کا اصول بیان کیا، مگر تفصیلی segregation، traceability، ذمہ داری اور نقصان کے ازالے کے قواعد ابھی جاری نہیں کیے۔
اگلا قابلِ پیمائش مرحلہ کمیٹی کی تحریری سفارشات، وزیراعظم یا کابینہ کی منظوری، بائیو سیفٹی جانچ، مخصوص اقسام کے لائسنس اور کاشت کے عملی قواعد ہوں گے۔ اس وقت درست نتیجہ یہ ہے کہ حکومت نے GM مکئی کی تجارتی کاری کی سمت میں اصولی اتفاق اور فریم ورک مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، نہ کہ ملک بھر میں فوری کاشت شروع ہو چکی ہے یا تمام اعتراضات حل ہو گئے ہیں۔




