پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں پیر کو نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی اور 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 12 ہزار 800 روپے گھٹ کر 4 لاکھ 38 ہزار 136 روپے ہو گئی۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز صرافہ ایسوسی ایشن کے جاری کردہ نرخوں کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت بھی 10 ہزار 973 روپے کمی کے بعد 3 لاکھ 75 ہزار 631 روپے رہی۔ یہ کمی حالیہ ہفتوں کے دوران مقامی مارکیٹ میں ایک بڑا یک روزہ اتار چڑھاؤ ہے۔

کاروباری ذرائع کے مطابق مقامی نرخوں پر بنیادی دباؤ عالمی سونے کی قیمت میں تیز گراوٹ سے آیا۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت تقریباً 128 ڈالر کم ہو کر 4 ہزار 156 ڈالر کے قریب آ گئی۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں بلند امریکی ٹریژری ییلڈز، شرح سود کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع محفوظ کرنے جیسے عوامل نے غیر سودی اثاثے سونے کی طلب کو متاثر کیا۔ بعض مارکیٹ رپورٹس میں اس دوران اسپاٹ گولڈ کے سات ہفتوں سے زائد کی کم ترین سطح تک جانے کا بھی ذکر کیا گیا۔

پاکستان میں سونے کے نرخ عمومی طور پر عالمی بلین مارکیٹ اور روپے کی قدر دونوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ پیر کے کاروبار میں پاکستانی روپے نے بھی انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دکھائی، جس سے مقامی قیمتوں پر عالمی کمی کا اثر زیادہ واضح طور پر منتقل ہوا۔ اس کے باوجود مقامی نرخوں میں مستقبل کی سمت کا انحصار عالمی قیمت، شرح مبادلہ اور جغرافیائی سیاسی حالات پر رہے گا، اس لیے ایک دن کی کمی کو مستقل رجحان سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔

چاندی کی قیمت میں بھی اسی روز کمی ہوئی۔ دستیاب صرافہ نرخوں کے مطابق فی تولہ چاندی 325 روپے کم ہو کر 6 ہزار 578 روپے پر آ گئی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت بھی نیچے آئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی قیمتی دھاتوں کی کمزوری صرف سونے تک محدود نہیں رہی۔

ماہرین اور مارکیٹ ڈیلرز عام طور پر مقامی خریداروں کو عالمی نرخوں، روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر اور مقامی صرافہ ایسوسی ایشن کے روزانہ جاری کردہ نرخوں کو ایک ساتھ دیکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ تازہ کمی سے زیورات اور سرمایہ کاری کے لیے سونا خریدنے والوں کو وقتی ریلیف ملا ہے، تاہم عالمی منڈی میں تیز اتار چڑھاؤ کے باعث قیمتیں قلیل مدت میں دوبارہ بدل سکتی ہیں۔