پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ میں جمعرات کو سونے کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 11 ہزار 200 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 65 ہزار 236 روپے ہوگئی۔ مقامی نرخ میں یہ تیزی بین الاقوامی سونے کی مارکیٹ میں بڑے اضافے کے ساتھ سامنے آئی ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت ایک دن میں 112 ڈالر فی اونس بڑھی۔ عالمی سطح پر جنگ، جغرافیائی کشیدگی، کرنسی اور شرح سود سے متعلق غیر یقینی کے دوران سرمایہ کار اکثر سونے کو نسبتاً محفوظ اثاثہ سمجھ کر خریدتے ہیں، جس سے قیمت میں تیزی آ سکتی ہے۔

پاکستان میں سونے کی مقامی قیمت عالمی نرخ کے ساتھ روپے اور ڈالر کی شرح مبادلہ سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ روپے کی قدر مستحکم ہونے کی صورت میں عالمی اضافے کا کچھ اثر محدود ہو سکتا ہے، جبکہ روپے کی کمزوری مقامی قیمت میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔

سونے کی بلند قیمت زیورات کی مقامی طلب اور شادی بیاہ کے اخراجات پر اثر ڈال سکتی ہے، جبکہ سرمایہ کاری کے طور پر سونا رکھنے والوں کے اثاثوں کی روپے میں قدر بڑھ جاتی ہے۔ تاہم قلیل مدت میں سونے کی قیمت بھی تیزی سے اوپر نیچے ہو سکتی ہے اور اسے یقینی منافع والا اثاثہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

موجودہ اضافہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اور عالمی مالی منڈیوں میں غیر یقینی کے ماحول میں ہوا ہے۔ اگر عالمی کشیدگی برقرار رہتی ہے تو محفوظ اثاثوں کی طلب سونے کو سہارا دے سکتی ہے، جبکہ جنگ بندی، شرح سود میں تبدیلی یا ڈالر کی مضبوطی قیمتوں کی سمت بدل سکتی ہے۔ مقامی صارفین کے لیے روزانہ نرخ عالمی مارکیٹ اور روپے دونوں کی حرکت سے جڑے رہیں گے۔