قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں پاکستان کی یورپی یونین کی جی ایس پی پلس تجارتی سہولت کے مستقبل پر خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، تاہم حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ فی الحال اس سہولت کے فوری خاتمے کا کوئی خطرہ نہیں۔ کمیٹی کے چیئرمین اور سابق وفاقی وزیر نوید قمر نے اجلاس کے دوران کہا کہ انسانی حقوق سے متعلق معاملات کے باعث جی ایس پی پلس حیثیت کے بارے میں منفی اشارے مل رہے ہیں۔ انہوں نے کسی مخصوص آئندہ یورپی فیصلے کی تصدیق نہیں کی، اس لیے ان کے بیان کو خدشے کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال کیانی نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ جی ایس پی پلس انتظام دسمبر 2028 تک جاری ہے اور نائب وزیراعظم کی سربراہی میں ایک کمیٹی جنوری 2029 سے نافذ ہونے والے نئے نظام کے لیے پاکستان کی اہلیت اور درخواست کی تیاری کر رہی ہے۔ جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان کو یورپی یونین کی منڈی میں متعدد مصنوعات پر ترجیحی یا ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے، جس کے باعث یہ سہولت ملکی برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل اور دیگر برآمدی شعبوں کے لیے نمایاں معاشی اہمیت رکھتی ہے۔
یورپی یونین کی نگرانی میں جی ایس پی پلس سے فائدہ اٹھانے والے ممالک کے لیے بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد بھی اہم شرط ہے۔ حالیہ مانیٹرنگ میں پاکستان کے حوالے سے جبری گمشدگیوں، آزادی اظہار، عدالتی نظام اور بعض قانونی فریم ورکس سے متعلق تحفظات سامنے آئے ہیں۔ یہ نکات یورپی اداروں کی نگرانی کا حصہ ہیں، تاہم کسی حتمی منفی فیصلے کا اعلان نہیں ہوا۔
اسی اجلاس میں تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم کی کمزور پیش رفت بھی زیر بحث آئی۔ حکومت کے مطابق تقریباً 37 لاکھ نان فائلر تاجروں کے تناظر میں نئی اسکیم سے دس لاکھ افراد کی شمولیت کی امید تھی لیکن صرف 222 نئے تاجروں نے اس میں حصہ لیا۔ بلال کیانی نے کہا کہ اسکیم کی مدت 31 اکتوبر کو ختم ہو چکی ہے اور حکومت اب نفاذی اقدامات کی تیاری کر رہی ہے، جنہیں وزیراعظم کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
کمیٹی کے ارکان نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کی عملی صلاحیت اور ممکنہ نفاذی طریقوں پر سوالات اٹھائے۔ حکومت نے کہا کہ تاجروں کے مطالبات کے مطابق آڈٹ سے استثنا اور فکسڈ شرح سمیت متعدد سہولتیں دی گئی تھیں، اس لیے اب مزید توسیع کا ارادہ نہیں۔ یوں اجلاس میں ایک طرف یورپی منڈی تک ترجیحی رسائی کے تسلسل کا معاملہ اور دوسری طرف اندرون ملک ٹیکس نیٹ بڑھانے کی ناکام کوشش، دونوں پاکستان کی معاشی پالیسی کے اہم چیلنجز کے طور پر سامنے آئے۔
