اسلام آباد: رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تجارتی توازن میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی اور جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران تجارتی خسارہ تقریباً 26 فیصد کم ہو کر 2.85 ارب ڈالر رہ گیا۔ سرکاری تجارتی اعدادوشمار کے مطابق اس تبدیلی کی بڑی وجہ بعض اہم خلیجی منڈیوں سے درآمدات میں کمی اور مجموعی برآمدی آمدن میں نسبتاً بہتر کارکردگی رہی۔

پاکستان کی خلیجی خطے کے ساتھ تجارت میں توانائی، پیٹرولیم مصنوعات اور صنعتی خام مال کا بڑا حصہ ہے، اس لیے درآمدی بل میں معمولی تبدیلی بھی مجموعی تجارتی فرق پر نمایاں اثر ڈالتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے توانائی کی ترسیل، شپنگ اور قیمتوں میں غیر یقینی پیدا کی ہے، جس کے باعث پاکستان کی درآمدی طلب اور ادائیگیوں کے توازن پر بھی اثر پڑا۔

اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان کے اہم ترین خلیجی تجارتی شراکت دار برقرار ہیں۔ پاکستان ان منڈیوں کو چاول، گوشت، ٹیکسٹائل، زرعی اور دیگر مصنوعات برآمد کرتا ہے، جبکہ خلیج سے خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات، کیمیکلز اور مختلف صنعتی اشیا درآمد کی جاتی ہیں۔ سہ ماہی خسارے میں کمی بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کے حوالے سے مثبت اشارہ ہے، تاہم اس کا تسلسل عالمی توانائی قیمتوں اور برآمدی نمو پر منحصر رہے گا۔

تجارتی فرق میں کمی کو صرف درآمدات کے سکڑنے سے مستقل کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ خلیجی منڈیوں میں برآمدات کا حجم اور مصنوعات کی تنوع مستقل طور پر بڑھے، تاکہ توانائی پر انحصار سے پیدا ہونے والا ساختی تجارتی خسارہ کم ہو۔ خوراک، آئی ٹی خدمات، انجینئرنگ مصنوعات اور ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل ایسے شعبے ہیں جہاں حکام اور کاروباری حلقے مزید گنجائش کی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔

موجودہ سہ ماہی کے اعدادوشمار بیرونی کھاتے کے لیے وقتی سہارا فراہم کرتے ہیں، لیکن مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آئندہ مہینوں کے نتائج بدل سکتا ہے۔ اسی لیے تجارتی خسارے میں پائیدار کمی کا انحصار برآمدی صلاحیت بڑھانے، نئی منڈیوں تک رسائی اور درآمدی توانائی کے متبادل ذرائع پر ہوگا۔