کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے پیر کو ہونے والے اجلاس سے قبل مالیاتی منڈی میں شرح سود کے آئندہ فیصلے پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ بعض بینکاروں اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے مہنگے تیل اور بڑھتے افراط زر کے خطرات کے باعث پالیسی ریٹ میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس اضافہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ صنعتی حلقے معاشی سرگرمی کی حمایت کے لیے شرح میں کمی چاہتے ہیں۔
اس وقت اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 11.5 فیصد ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں صارف قیمتوں پر مبنی مہنگائی 10.2 فیصد رہی، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 4.3 فیصد سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق علاقائی جنگ، خام تیل کی قیمتوں اور شپنگ لاگت میں اضافے سے درآمدی مہنگائی کے خطرات بڑھے ہیں اور مرکزی بینک کے لیے قیمتوں کے استحکام اور معاشی نمو کے درمیان توازن مشکل ہو گیا ہے۔
سینئر بینکار راشد مسعود عالم نے 50 بیسس پوائنٹس اضافے کو متوقع قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مارکیٹ کو 100 بیسس پوائنٹس اضافے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ٹریس مارک کے چیف ایگزیکٹو فیصل مامسا کے مطابق 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ایک درمیانی راستہ ہو سکتا ہے جو بڑھتے خطرات کا جواب دے مگر نمو کو غیر ضروری طور پر زیادہ نقصان نہ پہنچائے۔ یہ آرا مارکیٹ شرکا کی توقعات ہیں، اسٹیٹ بینک کا فیصلہ نہیں۔
کاروباری اور صنعتی تنظیموں نے مختلف مؤقف اختیار کیا ہے۔ پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن، کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری اور سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری سے وابستہ نمائندوں نے شرح سود کم کر کے سنگل ڈیجٹ تک لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلند شرح قرض لینے کی لاگت بڑھاتی اور سرمایہ کاری و صنعتی سرگرمی پر دباؤ ڈالتی ہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اصل فیصلہ اجلاس کے بعد ہی معلوم ہوگا۔ اس سے پہلے 50 یا 100 بیسس پوائنٹس اضافے کی بات پیش گوئی اور مارکیٹ رائے ہے، حتمی پالیسی اقدام نہیں۔ سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کی توجہ اس بات پر ہوگی کہ مرکزی بینک تازہ مہنگائی، عالمی توانائی قیمتوں، شرح مبادلہ، درآمدی اخراجات اور ملکی نمو کے اشاروں کو کس وزن کے ساتھ اپنے فیصلے میں شامل کرتا ہے۔
