نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے پشاور ناردرن بائی پاس منصوبے پر تعمیراتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور سرکاری طور پر 31 جنوری 2027 کو منصوبے کی تکمیل کا ہدف بتایا گیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق مختلف تعمیراتی پیکیجز پر پیش رفت الگ الگ مراحل میں ہے، جبکہ ایک بڑا پیکیج مکمل ہو چکا ہے۔

سرکاری تفصیلات کے مطابق پیکیج ون پر تعمیراتی کام سو فیصد مکمل کیا جا چکا ہے۔ پیکیج ٹو پر 79 فیصد، پیکیج تھری اے پر 82 فیصد اور پیکیج تھری بی پر 75 فیصد کام مکمل ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔ چارسدہ روڈ فلائی اوور پر پیش رفت نسبتاً کم ہے اور وہاں 25 فیصد تعمیر مکمل ہونے کا بتایا گیا ہے۔

پشاور ناردرن بائی پاس کا بنیادی مقصد شہر کے اندر سے گزرنے والی بھاری اور بین الاضلاعی ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا اور اہم شاہراہوں کے درمیان متبادل رابطہ فراہم کرنا ہے۔ اس نوعیت کے بائی پاس منصوبے شہری سڑکوں پر رش کم کرنے کے ساتھ مال بردار گاڑیوں کے سفر کے وقت اور لاجسٹک لاگت میں کمی کے لیے بھی اہم سمجھے جاتے ہیں۔

این ایچ اے کی جاری کردہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی پیکیجز تعمیر کے آخری مراحل کی طرف بڑھ رہے ہیں، تاہم فلائی اوور سمیت بعض حصوں پر باقی کام مقررہ مدت میں مکمل کرنا منصوبے کے مجموعی شیڈول کے لیے اہم ہوگا۔ سرکاری اطلاع میں تازہ مجموعی لاگت یا ہر پیکیج کی الگ مالی تفصیل شامل نہیں کی گئی۔

31 جنوری کی ڈیڈ لائن انتظامی ہدف ہے اور حتمی تکمیل تعمیراتی رفتار، موسم، یوٹیلیٹی منتقلی اور سائٹ سے متعلق دیگر عوامل پر منحصر رہ سکتی ہے۔ موجودہ تصدیق شدہ صورتحال یہ ہے کہ این ایچ اے نے کام تیز کرنے کی اطلاع دی ہے، پیکیج ون مکمل ہے اور باقی بڑے پیکیجز میں تین چوتھائی سے زیادہ کام مکمل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔