کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ختم ہونے والے کاروباری ہفتے میں 4,045 پوائنٹس، یعنی تقریباً 2.4 فیصد، کم ہو کر 162,375 پوائنٹس پر بند ہوا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ مسلسل پانچواں ہفتہ تھا جس میں انڈیکس نے مجموعی طور پر کمی ریکارڈ کی، جبکہ مشرق وسطیٰ کی بڑھتی کشیدگی، عالمی تیل قیمتوں اور ملکی معاشی غیر یقینی نے سرمایہ کاروں کے رجحان کو متاثر کیا۔

ہفتے کے آغاز پر انڈیکس 454 پوائنٹس گر کر 165,966 پر بند ہوا اور منگل کو مزید 814 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔ بدھ کو مارکیٹ میں عارضی بحالی دیکھی گئی اور انڈیکس 779 پوائنٹس بڑھا، تاہم جمعرات کو 2,007 پوائنٹس اور جمعہ کو مزید 1,550 پوائنٹس کی کمی نے ہفتہ وار خسارہ بڑھا دیا۔ اس طرح انڈیکس 166 ہزار، 164 ہزار اور پھر 163 ہزار کی نفسیاتی سطحوں سے نیچے چلا گیا۔

عارف حبیب لمیٹڈ کے تجزیے کے مطابق ہفتہ وار کمی کی بنیادی وجہ مسلسل جغرافیائی سیاسی بے یقینی رہی۔ اسی دوران برینٹ خام تیل کی قیمت ہفتے کے اختتام پر 114 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچی، جبکہ گزشتہ ہفتے کی اوسط تقریباً 106 ڈالر تھی۔ پاکستان چونکہ توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی تیل قیمتوں میں اضافہ درآمدی بل، مہنگائی اور بیرونی کھاتے کے بارے میں مارکیٹ کی توقعات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

کاروباری سرگرمی کے دیگر اشاریوں میں اوسط شیئر والیوم تقریباً 13 فیصد کم ہو کر 393 ملین شیئر رہا، جبکہ ڈالر میں تجارت شدہ قدر میں ہفتہ وار بنیاد پر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ میں پاکستان کے پہلی سہ ماہی کے تجارتی خسارے، صنعتی پیداوار اور نظرثانی شدہ معاشی شرح نمو کو بھی سرمایہ کاروں کے لیے اہم عوامل قرار دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کی شرح نمو کا تخمینہ معمولی کمی کے ساتھ 3.65 فیصد کیا گیا، جبکہ اگست 2026 میں بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ میں 0.67 فیصد اضافہ ہوا۔ بجلی کی پیداوار ستمبر میں سالانہ بنیاد پر بڑھی لیکن پیداواری لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا، جسے مہنگے ایندھن کے زیادہ استعمال سے جوڑا گیا۔

اسٹاک مارکیٹ کی ہفتہ وار کارکردگی مستقبل کی سمت کی ضمانت نہیں ہوتی۔ آنے والے کاروباری سیشنز میں عالمی تیل قیمتیں، مشرق وسطیٰ کی صورتحال، اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی، ملکی مہنگائی اور بیرونی کھاتے کے اعداد سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔