اسلام آباد: وفاقی حکومت نے تقریباً 490 ملین ڈالر کی مجوزہ کمرشل فنانسنگ کو اس کی بلند لاگت کے باعث قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ معاملے سے واقف ذرائع کے مطابق پیشکش پر غور کے بعد حکام اس نتیجے پر پہنچے کہ دستیاب شرائط موجودہ مالی حکمت عملی کے مطابق مناسب نہیں اور قرض لینے سے سودی اخراجات میں غیر ضروری اضافہ ہو سکتا ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان بیرونی ادائیگیوں کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ قرض کے مجموعی بوجھ اور اس کی لاگت کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حکومت نے حالیہ عرصے میں مختلف بین الاقوامی اور کمرشل ذرائع سے فنانسنگ حاصل کی ہے، تاہم حکام کا کہنا رہا ہے کہ ہر پیشکش کو قیمت، مدت، کرنسی اور ادائیگی کے شیڈول کی بنیاد پر جانچا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق چند ماہ قبل پاکستان نے یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کے ذریعے 300 ملین ڈالر کی فنانسنگ حاصل کی تھی، جس کے لیے رقم بحرین اور دبئی سے فراہم کی گئی۔ اس انتظام کے تحت بعض ٹیکس مراعات بھی دی گئی تھیں۔ نئی 490 ملین ڈالر کی پیشکش کے مقابلے میں حکومت نے متبادل ذرائع اور مستقبل میں نسبتاً بہتر شرائط کی دستیابی کو ترجیح دی۔

پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات میں قرضوں کی واپسی، درآمدی ادائیگیاں اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مناسب سطح پر رکھنا شامل ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام اور کثیرالجہتی اداروں سے رقوم کی دستیابی نے فنانسنگ کے دباؤ کو کچھ کم کیا ہے، لیکن کمرشل قرض اب بھی بیرونی وسائل کا ایک ممکنہ ذریعہ ہے۔ ایسے قرض عموماً عالمی شرح سود اور پاکستان کے خودمختار رسک پریمیم سے متاثر ہوتے ہیں۔

مجوزہ قرض مسترد کرنے کا فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت فوری نقد ضرورت کے باوجود فنانسنگ کی قیمت پر زیادہ احتیاط برت رہی ہے۔ تاہم اس پالیسی کی پائیداری کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آئندہ مہینوں میں سرکاری اور کثیرالجہتی رقوم بروقت ملتی ہیں یا نہیں اور پاکستان بین الاقوامی منڈیوں میں کس قیمت پر سرمایہ حاصل کر سکتا ہے۔